سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی پر آسٹریلوی اپوزیشن کی نکتہ چینی

سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی پر آسٹریلوی اپوزیشن کی نکتہ چینی

آسٹریلیا کے سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔

آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے اندرونی اور بیرونی سطح پر کی جانے والی شدید مخالفت کے باوجود امریکہ کی اندھی پیروی کرتے ہوئے اپنے ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔
ان کے اس اعلان کے فوری بعد آسٹریلیا کی اہم شخصیات نیز سیاسی و سماجی رہنماؤں نے حکومت کے اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی۔
اپوزیشن رہنما بل شورٹن نے وزیر اعظم کے اس اعلان کو ملک کے لیے ذلت آمیز پسپائی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے یہ اقدام انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی غرض سے کیا ہے۔

بل شورٹن نے مزید کہا کہ قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینا انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔

یورپ: مسلم اکثریتی ملک کا اپنی فوج بنانے کا اعلان، نیٹو کی تنقید

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے