جمہوریت, میں, جبری گمشدگیاں, نہیں ہوسکتیں

جمہوریت میں جبری گمشدگیاں نہیں ہوسکتیں

اسلام آباد: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اراکین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں جبری گمشدگیاں نہیں ہوسکتیں

حکومت سے اس معاملے پر بات چیت شروع کردی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
اجلاس میں وقفہ سوالات میں سینیٹر غوث نیازی نے پوچھا کہ کیا پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے پر دیا گیا ؟کیا یورپی یونین نے آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) سے نام نکلوانے کی درخواست جی ایس پی پلس کی بنیاد پر کی؟
جس پر شیریں مزاری نے جواب دیتے ہوئےبتایاکہ جی ایس پی پلس کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے 7 کنونشن پر عمل درآمد کرنا ہے اس سلسلے میں کئی قوانین بنائے جا چکے ہیں اور کچھ صوبائی معاملات ہیں جن پر صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
البتہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر یورپی یونین کی درخواست کا علم نہیں، اس بارے میں وزارت داخلہ ہی بہتر بتا سکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زینب ریسپانس الرٹ اینڈ ریکوری بل وزارت قانون کو بھیجوا دیا ہے اور بچوں کی گداگری روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جیلوں کی صورتحال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جیلوں کے حالات صرف بچوں کے لیے نہیں عورتوں کے لیے بھی ٹھیک نہیں اس سلسلے میں آئندہ ہفتے جیلوں کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے جیلوں کے دورے کروں گی۔
سینیٹ اجلاس میں وزیر قانون کی جانب سے تحریری طور پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں زیر التواء کیسز کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔
بتائی گئی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں 39 ہزار 7 سو 42 مقدمات زیرالتوا ہیں، لاہور ہائی کورٹ میں ایک لاکھ 65 ہزار 8 سو مقدمات جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں91 ہزار 5 سو 48مقدمات زیر التوا ہیں۔
اس کے ساتھ پشاور ہائی کورٹ میں29 ہزار 4سو 44 مقدمات، بلوچستان ہائی کورٹ میں 6 ہزار 8سو 52 مقدمات ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں 17ہزار 56 مقدمات زیر التوا ہیں۔
اس طرح ملک بھر کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 50 ہزار 4سو 47 مقدمات زیر التوا ہیں۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے خود مختار ہونے کے باعث وزارت قانون کے پاس عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تفصیلات موجود نہیں، فراہم کردہ معلومات پاکستان کمیشن برائے قانون انصاف سے حاصل کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے