یمن میں, طے پانے والے ,جنگ بندی کے معاہدے پر, عملدرآمد, شروع

یمن میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد شروع

سویڈن: اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں یمن کی حکومت اور حوثی مخالفین کے درمیان ساحلی شہر حدیدہ میں جنگ بند کرنے کا معاہدہ طے پایا تھا

سعودی عرب، ایران اور یمن کی حکومتوں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور یمن کے وزیرِ خارجہ خالد الیمانی نے کہا ہے کہ اگر یہ برقرار رہتا ہے تو یہ جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے بڑا قدم ہو گا۔
ایک سعودی سفارتکار کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادی اس معاہدے کے حامی ہیں جس کے تحت فریقین اپنے فوجی حدیدہ سے نکال لیں گے تاکہ امداد وہاں لائی جا سکے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی اس معاہدے کو امیدا افزا قرار دیا ہے جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ اب امن کا قیام ممکن ہے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ سویڈین میں امن کانفرنس میں سامنے آنے والے اس غیرمتوقع نتیجے کے باوجود اب بھی فریقین میں تناؤ پایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گُتریس نے معاہدے کے بعد کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ یہ معاہدہ یمن میں چار برس سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کا آغاز ہو گا۔
اس خانہ جنگی اور بیرونی حملوں کی وجہ سے یمن میں بچوں سمیت ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک میں اس دور کا بد ترین انسانی المیہ پید ہو چکا ہے۔
سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمن کی موجودہ حکومت اور اس کے حوثی مخالفین جن کا ملک کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول ہے، کے نمائندوں نے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔

جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کیسے ہوگا

یمن حکومت کی افواج اور ان کے مخالف حوثیوں کی میلیشیا کے نمایندے دونوں ہی حدیدہ شہر سے چند دنوں میں دستربردار ہو جائیں گے اور ان کی جگہ شہر کا کنٹرول، بقول اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گُنتریس کے، مقامی فورس سنبھال لیں گی۔
سیکریٹری جنرل گُتریس نے کہا کہ اس کے بعد اس جنگ بندی کا اطلاق پورے حدیدہ صوبے پر ہوگا۔
حدیدہ شہر پر قبضے کیلئے سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ریاستوں کے اتحاد نے کئی مہینوں سے چڑھائی کی ہوئی ہے لیکن انھیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
حدیدہ پر قبضے کیلئے جنگ کی وجہ سے یہ بندرگاہ عملی طور پر بند ہوچکی ہے جس کی وجہ سے حوثیوں کے زیرِ قبضہ یمن کے شمالی علاقوں میں امدادی سامان پہنچ نہیں پا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ اس جنگ بندی کے بعد بحیرہ احمر کی اس اہم بندرگاہ میں حالات کا جائزہ لے گا اور امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم میں مقامی انتظامیہ کی مدد کرے گا۔
اینٹونیو گُتریس کے مطابق جنگ بندی کے اس معاہدہے سے یمن میں امن بحال کرنے کا اور انسانی امداد تقسیم کرنے کا آغاز ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ یمن کے تیسرے بڑی شہر تعز میں جہاں شدید خانہ جنگی چلتی رہی ہے، وہاں بھی کچھ اہم اعلانات ہوئے ہیں لیکن ان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
اب تک دارالحکومت صنعا سمیت پورے یمن کیلئے جنگ بندی کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔ صنعا اس وقت حوثیوں کے قبضے میں ہے۔
مسٹر گُتریس نے کہا کہ وہ صنعا کے ہوائی اڈے کو اگلے ہفتے میں کھولے جانے کے معاہدے کے بارے میں بھی پر امید ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یمن میں مزید بہتری کیلئے متحاربین کے درمیان دیگر معاملات پر مذاکرات کا اگلا دور جنوری میں ہوگا۔
سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں یمنی حکومت اور اس کے مخالف حوثیوں کے درمیان ہونے والے یہ مذاکرات دو برس کے بعد پہلے مذاکرات تھے۔ یمن کی حکومت کو سن 2015 سے سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
یمن میں حالات سن 2015 سے بدتر ہوتے گئے تھے جب حوثیوں نے یمن کے صدر عبد ربو منصور ہادی کی فوجوں کو شکست دے کر ملک کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔ صدر منصور ہادی کو ملک سے فرار ہونا پڑا تھا۔
حوثیوں کے بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے، جسے سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں نے ایران کا خطے میں نائب تصور کیا، فوری طور پر یمن میں فوجی مداخلت کرکے صدر منصور ہادی کی حکومت کو بحال کیا۔ لیکن ان کی عملداری ملک کے جنوبی حصے پر ہو سکی۔
اس کے بعد سے منصور ہادی اور حوثیوں کے درمیان ایک جنگ جاری ہے جس میں سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فوجی بمباری کرتا چلا آرہا ہے۔ اس بمباری سے بچوں سمیت ہزاروں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔
اب تک اس صرف اس جنگ کی وجہ سے اور سعودی بمباری کی وجہ سے 6,660 شہری ہلاک ہوئے ہجبکہ 10,560 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دسیوں ہزاروں افراد قحط، غذائیت کی کمی اور بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے ایک مرتبہ پھر خبرادار کیا ہے کہ ہر ہفتے ہیضے کے دس ہزار سے زائد مریض رپورٹ کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے