سیکریٹری, صحت, سے 4 ہفتوں میں مکمل, ایکشن پلان, طلب

سیکریٹری صحت سے 4 ہفتوں میں مکمل ایکشن پلان طلب

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کی

سماعت میں سیکریٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات حتمی ہوگئی ہیں اور فیڈرل ٹاسک فورس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہیں۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ ہر 3 مہینے کے بعد ہمیں رپورٹ دیں، اس کے لیے واک نہ کریں، مٹھی میں دیکھ کر آئیں، چھوٹے چھوٹے بلونگڑے پیدا ہو رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پتا نہیں وہاں انکیوبیٹرز کام بھی کر رہے ہیں یا نہیں، اس معاملے پر ماں ہی قربانی کیوں دیتی ہے باپ کیوں نہیں؟ مٹھی میں حالت بہت بری ہے، ہم خود حالات دیکھ کر آئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دورے کے وقت کچھ انتظامات کرائے گئے، بعد میں چادریں اور کھیس ٹرک پر لاد کر واپس بھیج دیئے گئے، وہاں نرسیں اور ڈاکٹر ہمارے دورے کے لیے بلوائے گئے۔
تھر میں موجود آر او پلانٹ کے حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں نے وہاں آراو پلانٹ کا پانی پیا، مجھ سے کہا گیا پانی کم پینا تھا، میں خود سارا دن پریشان رہا ہوں۔
سیکریٹری صحت سے 4 ہفتے میں مکمل ایکشن پلان طلب کرتے ہوئے سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی۔
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے گزشتہ روز سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں بچوں کی اموات کا جائزہ لینے کے لیے مٹھی کا دورہ کیا تھا۔
چیف جسٹس کے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی مٹھی پہنچے تھے جہاں انہوں نے مٹھی کے مضافات میں قائم ایشیا کے سب سے بڑے آر او پلانٹ کا دورہ کیا تھا۔
بعدازاں وہ مٹھی میں قائم سول ہسپتال پہنچے تھے، ہسپتال کے دورے کے دوران ادویات کی کمی پر انہوں نے انتظامیہ کی سرزنش کی اور ایمرجنسی وارڈ کا دورہ کر کے انتظامیہ کو زیرعلاج مریضوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبوں میں زیر علاج مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے بات کی اور ہسپتال میں دی جانے والی سہولیات کے حوالے سے سوالات کیے اورمٹھی اسپتال کا داخلہ رجسٹر اور مٹھی اسپتال کی ادویات بھی چیک کی تھیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سندھ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا تھاکہ تھر میں قحط سالی کی وجہ سے جو کھاد اور خوراک کی ضرورت ہے وہ سندھ حکومت بہت اچھے طریقے سے پورا کررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا تھاکہ صحت اور ایجوکیشن کے حوالے سے تھر میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، میں نے اسپتال ڈیپلو کا دورہ کیا جس میں ایکسرے کی بڑی مشین خراب تھی اور چھوٹی ناکافی تھی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ تھر کے اسپتال میں آپریشن تھیٹر ہے لیکن مجھے کوئی سرجن نظر نہیں آیا، حکومت سندھ اس حوالے سے اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے