پارٹی کے سربراہ کے, خلاف, ووٹنگ کی, جا سکتی ہے

پارٹی کے سربراہ کے خلاف ووٹنگ کی جا سکتی ہے

برطانیہ: وزیر اعظم ٹریزا مے کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے اراکین نے ان کی قیادت کو چیلنج کرتے ہوئے ان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی درخواست دے دی ہے

1922 کمیٹی کے نام سے معروف کنزرویٹو پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے چئیرپرسن سر گراہم بریڈی کو کنزرویٹو پارٹی کے 48 ارکانِ پارلیمان سے خط ملے جس میں ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی درخواست کی گئی۔
پارٹی کے قوانین کے مطابق اگر پارٹی کے 15 فیصد اراکین چئیرپرسن سے درخواست کریں تو پارٹی کے سربراہ کے خلاف ووٹنگ کی جا سکتی ہے۔
اس کے بعد بدھ کی صبح اپنی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اپنی قیادت کو چیلنج کیے جانے کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کو اس وقت تبدیل کرنا ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ نئے لیڈر کے پاس بریگزٹ کے معاملے پر گفتگو کرنے کے لیے وقت نہیں ہوگا اور ان کے قیادت سنبھالنے کے بعد پہلا کام آرٹیکل 50 کو بڑھانے یا واپس لینے کے بارے میں ہو گا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنے سے ہم صرف اپنے درمیان مزید دراڑیں پیدا کر رہے ہیں ایک ایسے موقعے پر جب ہمیں اپنے ملک کی خاطر متحد رہنا ہوگا۔‘
ٹریزا مے کی قیادت کو کیے جانے والا یہ چیلنج اسی طرح کا چیلنج ہے جیسا کہ آج سے 28 سال قبل نومبر 1990 میں سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی قیادت کو ان کی سیاسی جماعت کی حامیوں نے مائیکل ہیسلٹائن کی قیادت میں چیلنج کیا تھااور اس کے نتیجے میں جان میجر کنزرویٹو پہلے پارٹی کے سربراہ اور پھر وزیراعظم بنے تھے۔
کمیٹی کے سربراہ سر گراہم بریڈی کی جانب سے جاری کیے گئے پریس ریلیز کے مطابق بدھ کو برطانوی وقت کے مطابق شام چھ بجے سے لے کر آٹھ بجے تک دارالعوام کے کمیٹی روم نمبر 14 میں ووٹنگ کا سلسلہ منعقد ہوگا جس کے بعد جلد از جلد نتیجے کا اعلان کر دیا جائے گا۔
اس موقعے پر سر گراہم بریڈی نے کہا: ‘ہم پارٹی کی قیادت کو دیکھ رہے ہیں اور یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ ٹریزا مے اس وقت تک وزیر اعظم ہیں جب تک کہ کوئی دوسرا نام سامنے نہ آجائے۔
ٹریزا مے کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے واضح اکثریت سے اس ووٹنگ میں اپنے حق میں نتیجہ حاصل کرنا ہوگا اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو اگلے ایک سال تک ان کی قیادت کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
لیکن اگر وہ ایسا نہ سکیں تو تو کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کے لیے مقابلہ ہوگا اور ٹریزا مے اس میں شرکت کرنے کی اہل نہیں ہوں گی۔
ایک اور ممکنہ صورتحال یہ ہے کہ ٹریزا مے کم ووٹوں سے اکثریت حاصل کر لیں تو اس صورت میں وہ پارٹی کی قیادت خود چھوڑ دیں کیونکہ کنزرویٹو پارٹی ہاؤس آف کامنز کی سب سے بڑی جماعت ہے، اس کی قیادت کرنے والا فرد وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہوگا۔
برطانیہ کی جانب سے جون 2016 میں یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے کے بعد ٹریزا مے نے جولائی 2016 میں برطانیہ کی وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن انھیں بریگزٹ کے حوالے سے کیے جانے والے منصوبوں پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔
گذشتہ روز برطانیہ اور یورپین یونین کے درمیان بریگزیٹ معاہدے کی برطانوی پارلیمنٹ سے توثیق کرنے کے لیے ووٹنگ ہونا تھی لیکن وزیرِ اعظم نے ووٹنگ موخر کر دی اور تاحال ووٹنگ کے لیے کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا
اس سے پہلے حکمران جماعت کے درجنوں ارکان بریگزٹ معاہدے کی مخالفت کا اعلان کر چکے تھے۔ اگر ایسی صورت میں اس پر پارلیمان میں ووٹنگ ہوتی تو لیبر، سکاٹش نیشنل پارٹی، اور لبرل ڈیموکریٹس کامیاب ہو جاتے۔
لیبر پارٹی نے پہلے ہی سے اعلان کر رکھا ہے کہ اگر بریگزٹ معاہدے پر ٹریزا مے کو شکست ہوئی تو وہ دارالعوام میں ان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی تحریک لائیں گے۔
اگرچہ ٹوری پارٹی میں بغاوت کی وجہ سے کئی لوگ کہہ رہے تھے کہ ووٹنگ ملتوی کر دی جائے گی لیکن پیر کی صبح تک وزیرِ اعظم مے اور ان کے ساتھی کا کہنا تھا کہ وہ ہر حال میں بریگزٹ معاہدے پر ووٹنگ کرائیں گے۔
نزرویٹو پارٹی کی 1922 کمیٹی پہلے وقت کا تعین کرتی ہے جس کے بعد ٹوری پارٹی کے ممبران جماعت سے دو اراکین کو چنتے ہیں جن کو بقیہ پارٹی ووٹ کرتی ہے۔
ووٹنگ کے سلسلے کے بعد سب سے کم رینکنگ والا فرد باہر ہو جاتا ہے اور آخر میں دو لوگ رہ جاتے ہیں۔
اس موقع پر پارٹی فاتح کے لیے ووٹنگ کرتی ہے۔ آخری دو ممبران اپنے اپنے حق میں بقیہ اراکین کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہیں جو کہ ووٹنگ کی ڈیڈ لائن سے قبل کیا جاتا ہے۔
اگر اس موقع پر صرف ایک امیدوار ہو تو شخص پارٹی کی قیادت سنبھال لیتا ہے اور اسے ووٹنگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے