رفاہی پلاٹوں پر قائم مکانات اور مارکیٹس ,کو 15 دن کے, بجائے 45 دن کا, پیشگی نوٹس ,دیا جائے

رفاہی پلاٹوں پر قائم مکانات اور مارکیٹس کو 15 دن کے بجائے 45 دن کا پیشگی نوٹس دیا جائے

کراچی : سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بینچ نے شہر میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کی

دوران سماعت عدالت میں کراچی میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے آپریشن کے معاملے پر رپورٹ پیش کی گئی۔
مذکورہ رپورٹ میں وفاقی، صوبائی حکومتوں اور مئیر کراچی کی جانب سے مشترکہ لائحہ عمل پیش کیا گیا، جس میں وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں نے تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
جس پر سپریم کورٹ نے تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ رفاہی پلاٹوں پر قائم مکانات اور مارکیٹس کو 15 دن کے بجائے 45 دن کا پیشگی نوٹس دیا جائے۔
علاوہ ازیں مئیر کراچی وسیم اختر نے عدالت سے کہا کہ وفاقی حکومت سے گرانٹ لینے پر انہیں تحفظات ہیں، اگر وفاقی حکومت نے گرانٹ نہ دی تو کیا ہوگا۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 20 کروڑ کی گرانٹ دینا وفاقی حکومت کی ذمہ داری نہیں اور ساتھ ہی عدالت نے سندھ حکومت کو خود سے ‘کے ایم سی’ کو 20 کروڑ جاری کرنے کا حکم دیا۔
دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے موقف کے مطابق انہوں نے 20 کروڑ روپے دینے کے لیے وفاقی حکومت سے مدد مانگ لی ہے۔
وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت متاثرین کی بحالی اور متبادل جگہ فراہم کرے گی۔
جس پر چیف جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت آنکھ بند کرکے بیٹھی تھی جو شہر تباہ ہو گیا، ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ صورتحال کے ایم سی کی غفلت کے باعث ہوئی۔
اس موقع پر مئیر کراچی وسیم اختر نے عدالت کو بتایا کہ ایسا کہنا درست نہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 6 ہفتوں کا پیشگی نوٹس صرف رفاہی پلاٹوں پر قائم گھروں سے متعلق ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بلڈرز مافیا کی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن جاری رہنا چاہیے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ کے ایم سی اور ایس بی سی اے سپریم کورٹ کا نام استعمال کرکے گھروں کو بھی مسمار کر رہی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کسی کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرے گی، مگر آپریشن قانون کے عین مطابق ہونا چاہیے، کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
مئیر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ رفاہی پلاٹوں پر عدالتوں نے حکم امتناعی دے رکھے ہیں، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ سندھ ہائیکورٹ 15 دن میں تمام کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر سندھ ہائیکورٹ نے 15 دن میں کیسز نہ نمٹائے تو تمام کیسز سپریم کورٹ میں لگا دیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا تیسراکورونا ٹیسٹ منفی آگیا ، وہ 17روز تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے