ہم, کسی اور, کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں, گے، ہم کسی کے, اجرتی قاتل نہیں, بنیں گے

ہم کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم کسی کے اجرتی قاتل نہیں بنیں گے

وزیراعظم کا انتہائی خوش کُن اعلان سُنا جو انھوں نے امریکی میڈیا کو ببانگ دُہل سُنایا کہ ’ہم کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم کسی کے اجرتی قاتل نہیں بنیں گے۔‘ دیر آید، دُرست آید

آخر ہم بھی زندہ قوم ہیں، ہمارے بھی جذبات اور احساسات ہیں۔ کب تک آخر لوگ ہمیں استعمال کریں گے اور پھینک دیں گے۔ ہماری اتنی خدمات کا صلہ محض چند ڈالرز اور ہماری قربانیوں کا یہ نتیجہ کہ ہمیں اُسامہ کے طعنے مارے جائیں۔
بہت ہو گیا مسٹر ٹرمپ، ہم کوئی ایرے غیرے نہیں ہیں نہ ہی آپ کی ایک کال پہ سب ڈھیر ہوں گے اور نہ ہی آپ کے سامنے جھکیں گئے۔ جھکا تو جب غیرکے آگے۔۔ نہ تن تیرا نہ من۔
ہم اقبال کے شاہین ہیں چٹانوں پر بسیرا ہے اور خودی اتنی بُلند کے خدا ہم سے خود ہماری رضا پوچھتا ہے۔ حد ہے کہ ہمیں احساس تک نہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کس راستے پر گامزن ہیں۔
ہم کب یہ اعلان کر رہے ہیں؟ تب جب ملک کے طول و عرض میں امریکی ڈالروں کی چمک اور جھنکار کی عوض ہزاروں بے گناہ پاکستانی جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ جب کسی غیر کی جنگ کو اپنا کر اپنے گھر کو آگ لگائی جا چکی ہے، پاکستان کے فضائی اڈوں کو استعمال کیا جا چکا ہے، ہم نفسوں کو بارود میں اڑایا گیا ہے، نفرتوں کے بیج بوئے جا چکے ہیں، فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی جا چکی ہے، انتہاپسندی اور اشتعال انگیزی کو ہوا دی جا چکی ہے، کسی اور کی سہولت کاری کے لیے اپنے باشندوں کو داؤ پر لگایا جا چکا ہے اور غیروں کے لیے اپنے شہری وار دیے گئے ہیں۔
منیر نیازی کے بقول ’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں‘ مگر دیر سے ہی سہی یہ سوال پوچھنے کی اجازت ہونے چاہیے کہ جن افراد نے، جن اشخاص نے اور جن حکمرانوں نے یہ فیصلے کیے کیا ہم اُن کو بھی کبھی کٹہرے میں لا کھڑا کریں گے؟
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ 80 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق ہو یا نائن الیون کے بعد جنرل مشرف۔۔۔ قوم کو پرائی جنگ میں دھکیلنے والے حکمران نہ تو جواب دہ ہیں نہ ہی اُن کو جواب دہ کیا جا سکتا ہے۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا آج ہم نے اپنے ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ کیا ہم نے کبھی محاسبہ کیا ہے؟ ملک اور قوم کے ’وسیع تر مفاد میں‘ ہونے والے فیصلوں کی آڑ میں ملک اور قوم کا ہی سودا ہوتا رہا ہے۔
خدارا اب بس کیجیے ہمارے شمال مغرب میں جو لاوا پھٹنے کو تیار ہے اُسے ٹھنڈا کیجیے۔ حدود کے اندر رہنے کے انتباہ حدوں کو توڑنے کا سبب نہ بن جائیں۔
یہ چند نوجوان نہیں ہیں جو خفیہ جنگ کا حصہ ہوں ان کے پیچھے وہ تمام قبائل ہیں جنھوں نے روسی استعمار کے خلاف جنگ لڑی اور یہ امریکہ کے لیے بھی لوہے کے چنے ہیں۔
یہ آئین اور مملکت کے قانون کے حق میں ہیں۔ ان پر پابندی کی بجائے انھیں قومی میڈیا پر آنے کی اجازت کیوں نہیں ملنی چاہیے تاکہ عوام جان سکیں کہ سچ اور جھوٹ کیا ہے۔
اس سلسلے میں عوام کی نمائندہ حکومت اور وزیراعظم مرہم رکھ سکتے ہیں۔ اُن کی مقبولیت خاص کر کے نوجوانوں اور پشتون نوجوانوں میں ایک راستہ بن سکتی ہے۔
یہ واقعاتی تحریک ضرور تھی مگر اسے تاریخی ہونے سے بچانے کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ آیے مکالمے کا آغاز کریں اور ملک کو ایک اور آگ سے بچائیں۔

یہ بھی پڑھیں

پرانے کپڑے

میم آپ اپنے پرانے کپڑے کس کو دیتی ہیں میں تحریر: زینب بخاری میری کلاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے