زینب, کو سات سے, دس عطیہ کنندگان کی, ضرورت
HARBURG, GERMANY - JUNE 08: Blood donations are seen at the blood donation service Hamburg on June 8, 2011 in Harburg, Germany. Hospitals and the Red Cross in northern Germany have appealed to the public for blood donations as a result of the current outbreak of enterohemorrhagic E. coli, also known as the EHEC bacteria. With at least 2,200 people afflicted by the infection, and approximately 500 suffering from the HUS complication from EHEC that attacks the kidneys, hospitals have seen an explosive growth in their need for donated blood plasma. The EHEC outbreak has thus far killed at least 22 people in Europe's deadliest recorded outbreak of E. coli. (Photo by Joern Pollex/Getty Images)

زینب کو سات سے دس عطیہ کنندگان کی ضرورت

ایک دو سالہ پاکستانی نژاد امریکی بچی کی جان بچانے کے لیے خون کے ایک نایاب گروپ کی ضرورت ہے جس کی تلاش کے لیے دنیا بھر میں تلاش شروع کر دی گئی ہے

کینسر کے مرض میں مبتلا زینب مغل نامی اس بچی کو بڑی مقدار میں خون کی ضرورت ہے اور اس کا خون کا گروپ دنیا کا نایاب ترین گروپ ہے جس کی وجہ سے اس کی تلاش میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
کارکنوں نے اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا گروپ ٹیسٹ کیا ہے لیکن اب تک صرف تین لوگ ایسے ملے ہیں جن کا یہی گروپ ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھیں زینب کے علاج کے لیے سات سے دس عطیہ کندگان کی ضرورت ہے۔
چند ماہ قبل پتہ چلا تھا کہ زینب کو نیوروبلاسٹوما نامی مرض ہے جو خاص طور پر بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔
جب تک زینب کا علاج چلتا رہے گا، اسے خون کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ ان کے خون کا گروپ ایسا ہے جو صرف پاکستانی، انڈین یا ایرانی نژاد لوگوں میں پایا جاتا ہے۔
تاہم ان ملکوں میں بھی صرف چار فیصد لوگوں کا یہی گروپ ہے۔
دو عطیہ کندگان امریکہ سے اور ایک برطانیہ سے ملا ہے۔
خون پر تحقیق کے ادارے ون بلڈ کی لیبارٹری مینیجر فریڈا برائٹ نے کہا: ‘یہ خون اس قدر نایاب ہے کہ میں نے اپنی 20 سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں پہلی بار اس قسم کے انتقالِ خون کا تجربہ کیا ہے۔ خون سے ان کے مرض کا علاج نہیں ہو گا لیکن ان کے علاج کے دوران اس کی ضرورت پڑے گی۔’
زینب کے والد راحیل مغل کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انھیں ستمبر میں پتہ چلا کہ زینب کو یہ مرض ہے۔ ‘ہم سب رونے لگے۔ یہ بدترین خبر تھی۔’
زینب کے والدین نے اپنا خون دینے کی پیشکش کی لیکن معلوم ہوا کہ ان کا خون زینب کے خون سے نہیں ملتا۔ راحیل کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کے بہت سے لوگوں نے بھی خون دینے کی کوشش کی لیکن وہ بھی نہیں ملا۔
ون بلڈ کے مطابق علاج سے زینب کی رسولی گھٹنا شروع ہو گئی ہے، لیکن انھیں آگے چل کر ہڈی کے گودے کے ٹرانسپلانٹ کی بھی ضرورت پڑے گی۔
راحیل نے کہا: ‘میری بیٹی کی زندگی کا انحصار خون پر ہے۔ عطیہ کنندگان زبردست کام کر رہے ہیں۔ میں اسے کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیں

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو ہے اور یہ اس قدر نایاب

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو اور یہ اس قدر نایاب

یہ افراد دنیا کے وہ 15 فیصد افراد ہیں جن میں اب تک معلوم شدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے