یورپی کمیشن کی تحقیقات ’غیر منصفانہ

امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی لیے کی جانے والی تحقیقات ’غیر منصفانہ‘ ہیں اور اس میں انفرادی ریاست کے ٹیکس قوانین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

یورپی کمیشن نے فیصلہ دیا تھا کہ آئرلینڈ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل سے پچھلے ٹیکسوں کی مد میں 13 ارب یورو وصول کرے۔

ڈیموکریٹ جماعت سے وابستہ سینئر سینیٹر چارلس شومر نے یورپی کمیشن کے اس اقدام کو ’پیسے بنانے کا سستا حربہ‘ قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ کا اثر امریکی ٹیکس دہندگان پر پڑے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے زور دیا ہے کہ اگر ایپل نے پرانا ٹیکس ادا کیا تو ممکنہ طور پر اپنے نقصان کی تلافی میں ایپل امریکہ میں کم ٹیکس دے گا، جو کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے غیر منصفانہ ہے۔

امریکہ وزارت خارجہ نےگذشتہ ہفتے کہا تھا کہ یورپی کمیشن ایک بین الاقوامی ٹیکس محکمہ بنتا جا رہا ہے جو رکن ممالک کے ٹیکس قوانین میں مداخلت کر کے انھیں بےاثر بنا رہا ہے۔

یاد رہے کہ یورپی کمیشن کی جانب سے تین سال جاری رہنے والی تحقیات میں ایپل کے ٹیکس فوائد کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ نے ایپل کو دوسرے کاروباروں اور کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس دینے کا موقع فراہم کیا اور وہ تقریباً ایک فیصد شرح کے مطابق کاروباری ٹیکس ادا کر رہی تھی۔

تاہم ایپل اور آئرلینڈ دونوں ہی اس فیصلے سے متفق نہیں اور اس کے خلاف اپیل میں جانے کا اعلان کرچکے ہیں۔

یورپی کمشنرمارگریتھ ویسٹیگر کا کہنا تھا کہ ممبر ملک محضوص کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن کی تحقیقات سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ آئرلینڈ نے ایپل کو غیرقانونی ٹیکس فوائد دیے، جس کی وجہ سے وہ برسوں سے دیگر کاروباروں کی مقابلے کافی حد تک کم ٹیکس ادا کرنے کا موقع ملا۔‘

آئرش کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 5۔12 فیصد ہے۔ کمیشن کی تحقیقات کے مطابق ایپل نے اپنے یورپی منافعوں پر سنہ 2003 میں ایک فیصد اور سنہ 2015 میں 005۔0 فیصد ٹیکس ادا کیا۔

ایپل کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملازمتوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

ایپل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کمیشن کا کیس یہ نہیں کہ ایپل نے کتنا ٹیکس دیا، یہ معاملہ اس سے متعلق ہے کہ کس حکومت نے کتنا ٹیکس جمع کیا۔ اس سے یورپ میں سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے مواقعوں پر نقصان دہ اثر ہو سکتا ہے۔‘

’جہاں کہیں بھی ہم کام کرتے ہیں وہاں ایپل قوانین کی پاسداری کرتا ہے اور ٹیکس ادا کرتا ہے۔ ہم اپیل کریں گے اور ہم پراعتماد ہیں کہ یہ فیصلہ تبدیل کر دیا جائے گا۔

آئرش حکومت کی جانب سے بھی ایسے ہی ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

آئرلینڈ کے وزیرخزانہ مائیکل نونن کی جانب سے جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میں کمیشن سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔‘

یورپی یونین کے ٹیکس قوانین کے تحت ملکی ٹیکس حکام منتخب کمپنیوں کو ٹیکس کی چھوٹ دینے کے مجاز نہیں ہیں۔ یورپی یونین اسے غیرقانونی حکومتی امداد قرار دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جولائی میں ملکی برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا

اسلام آباد: رواں سال جولائی میں ملکی برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا، ملکی برآمدات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے