اوپیک تیل, کی, پیداوار, میں, کمی کا, اعلان, کرے گا

اوپیک تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کرے گا

ویانا :جمعرات کو اوپیک کے 15 رکن ممالک کے نمائندگان نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں سالانہ اجلاس میں شرکت کی، جہاں انھیں آئندہ چھ ماہ کے لیے تیل کی پیداوار کی سطح طے کرنی تھی

یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اوپیک کے سب سے طاقتور ملک سعودی عرب کی خواہش پر پیداوار میں کمی سے قیمتیں بڑھیں گی، جو نومبر کے آخر تک گذشتہ ایک سال کے دوران کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ لیکن فی الحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ پیداوار میں کمی کی ضرورت ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ دوسری صورت میں قیمتیں آئندہ سال مزید کم ہو سکتی ہیں کیونکہ متوقع طور پر تیل کی طلب میں کمی ہوگی۔
‘پیٹرول کی قیمت پہلے سے بہت زیادہ ہے۔’بعض اوقات ایک دن میں 16 گھنٹے کام کرتا ہوں، مسلسل 30 دن، تاکہ اپنے خاندان کا گزارہ کر سکوں۔’
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ٹویٹ کی تھی کہ ‘امید ہے سعودی عرب اور اوپیک تیل کی پیداوار کم نہیں کریں گے۔’ نومبر میں ایک اور ٹویٹ میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے جواب میں انھوں نے لکھا تھا: ‘سعودی عرب کا شکریہ، لیکن مزید کمی لائیں۔
ہم سب کی طرح عثمان احسن کا اوپیک پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے، لیکن صدر ٹرمپ کا ضرور ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں کم رہیں جس کا فائدہ امریکی‌ ڈرائیوروں اور ملک کی معیشت کو ہوگا۔
اگر ہم تیل کی موجودہ قیمتیں دیکھیں اور ان کا موازنہ گذشتہ دہائی سے کریں تو یہ بتدریج کم ہیں۔ برینٹ کروڈ کو عالمی تیل کی قیمت کا معیار سمجھا جاتا ہے اور اس کی قیمت 28 نومبر کو 58.76 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھی۔ یہ اکتوبر 2017 سے اس کی کم ترین سطح تھی۔
لیکن تجزیہ کاروں کی جانب سے ’اوپیک پیداوار میں کمی کا اعلان کرے گا‘ کی پیشنگوئیوں کے بعد بھی تیل کی قیمتیں 63 ڈالر تک پہنچ گئیں۔ تاہم سطح پھر بھی مارچ 2012 میں تیل کی قیمت کا آدھا بھی نہیں ہے۔ تب فی بیرل قیمت 128 ڈالر تھی، کیونکہ اس وقت خدشات تھے کہ عراق میں عدم استحکام کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہوگی۔
اوپیک پیداوار میں کمی چاہتا ہے کیونکہ اس کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں آئندہ سال ترقی کی شرح کم ہونے سے تیل کی مانگ میں بھی کمی ہوگی۔
اس نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ اب وہ توقع کر رہا ہے کہ سنہ 2019 میں عالمی طور پر کروڈ تیل کی مانگ میں اوسطاً 1.29 ملین بیرل یومیہ اضافہ ہوگا، جو سنہ 2018 میں کل دس کروڈ بیرل یومیہ ہے۔ اس سے قبل جولائی میں اس نے 1.45 ملین بیرل یومیہ اضافے کا اندازہ لگایا تھا۔
تیل پر تحقیق کرنے والے ادارے ووڈ میکنزی کی نائب صدر این لوئز ہٹل اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ آئندہ سال تیل کی مانگ میں کمی ہوگی۔ ان کا اندازہ ہے کہ اوپیک تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کرے گا، لیکن صدر ٹرمپ کے دباؤ‌ کی وجہ سے یہ محدود ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘ہم امید کرتے ہیں کہ اس اجلاس سے پیداوار روکنے کا معاہدہ سامنے آئے گا اور یہ سنہ 2019 کے لیے ہماری پیشن گوئی کی بنیاد رہا ہے۔ ہمیں اس کی چند ماہ سے توقع تھی کیونکہ اس کے بغیر بڑے پیمانے پر سپلائی میں اضافہ ہوگا۔
لوئز ہٹل کے خیال میں آٹھ لاکھ بیرل یومیہ کے قریب۔ وہ کہتی ہیں، ‘اس سے قیمتیں مستحکم رہیں گی اور مزید کمی نہیں آئے گی۔’ ان کا کہنا تھا کہ دس لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کا مطلب ہے کہ قیمت ‘کئی ڈالر فی بیرل’ بڑھے گی۔
’سینٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی‘ سے وابستہ تیل کی صنعت کی تجزیہ کار ریچل زیمبا کے خیال میں ‘پانچ لاکھ بیرل یومیہ تک’ کمی ہو سکتی ہے۔
تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس اجلاس کے بارے میں اب بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکہ اور چین اب بظاہر اپنے تجارتی تنازعات حل کر رہے ہیں، عالمی معیشت گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بھی ہو سکتی ہے۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب کی شبیہ اور ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اس کے بعد سعودی عرب شاید صدر ٹرمپ کی بات ماننے پر آمادہ ہو۔
ویسے بھی سعودی عرب نے پہلے ہی صدر ٹرمپ کے اصرار پر اپنی پیدا وار کو کسی حد تک بڑھا دیا ہے۔ اس کا مقصد ایران پر امریکی پابندیوں کے دوبارہ لگائے جانے کے بعد عالمی پیداوار میں آنے والی کمی کی بھرپائی کرنا تھا۔
امریکی شہر ہیوسٹن کی رائیس یونیورسٹی کے بیکر انسٹِٹیوٹ کے ساتھ منسلک ریسرچ فیلو جِم کرین کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے دباؤ کے باوجود اوپیک کی پیداوار میں کمی متوقع ہے۔
’زیادہ تر ممالک کو اپنے قومی بجٹ کے لیے 60-80 ڈالر فی بیرل کی قیمت چاہیے ہوتی ہے۔ جب یہ 60 ڈالر سے بھی نیچے گر جاتی ہے تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ روس کے ساتھ اوپیک کے قریبی تعلقات سے بھی اس کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں، اور اگر اوپیک پیداوار کم کرتا ہے، تو روس بھی شاید ایسا ہی کرے گا۔
حالیہ برسوں میں امریکہ میں چٹانوں سے نکالے جانے والے تیل (شیل تیل) کی صنعت میں وسعت کی وجہ سے اوپیک اور روس کے درمیان تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ امریکی صنعت میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ تخمینوں کے مطابق اب امریکہ تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ سعودی عرب دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہے۔
یعنی صدر ٹرمپ کے ٹویٹس کے باوجود، ایسا لگتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھانے کے لیے اوپیک پیداوار میں کمی، زیادہ نہیں تھوڑی صحیح، لیکن کمی کا اعلان کرے گی۔
اسلام آباد میں مسٹر احسن کے لیے یہ اچھی خبر نہیں ہوگی۔ وہ کہتے ہیں، ’زندگی مشکل ہے، اگر میں نارمل اوقات کام کروں، یعنی دن میں آٹھ گھنٹے، تو میں تیل کی قیمتوں کی وجہ سے منافع نہیں کما سکتا۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا میں یہ, واحد درخت ہے جو کسی, فٹبال کلب, کا رکن, بھی ہے

دنیا میں یہ واحد درخت ہے جو کسی فٹبال کلب کا رکن بھی ہے

پیراگوئے:گراؤنڈ میں بڑھتے ہوئے درخت کو اپنی ٹیم کا آفیشل مداح قرار دیتے ہوئے اسے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے