ٹریفک وارڈن نے آئی جی کے دفتر کے سامنے خود کشی کر لی

خود کشی کرنے والے ٹریفک وارڈن شاہین ڈیپوٹیشن پرپشاور سے اسلام آباد آیا تھا جسے کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی جس کے بعد ملازم نے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا جہاں سے انصاف ملنے کے بعد وہ آئی جی موٹروے ملاقات کے لیے آیا تھا۔

تا ہم آئی جی موٹرشوکت حیات کے عملئ نے ٹریفک وارڈن شاہین کو ملنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد ٹریفک وارڈن نے دل برداشتہ ہو کر اپنی کنپٹی پر پستول گولی چلا کرخود کشی کرلی،ٹریفک وارڈن موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

جاں بحق ہونے والے ٹریفک وارڈن کی میت قریبی اسپتال منتقل کر دی گئی ہے اور لواحقین کو مطلع کردیا گیا ہے، لواحقین کی آمد کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم کر کے میتے لواحقین کے حوالے کر دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ٹریفک وارڈن ڈیبوٹیشن پر پشاور سے اسلام آباد آیا تھا جسے موٹر وے پولیس کی انتظامیہ نے واپس اپنے محکمے بھیج دیا تھا تا ہم ٹریفک وارڈن اسلام آباد موٹر وے میں ہی کام کرنے پر بہ ضد تھا۔

یہ بھی پڑھیں

تمام جعلی اکاؤنٹس, کے اندراج, اور بدعنوانی کے, خاتمے کی, راہ ہموار

تمام جعلی اکاؤنٹس کے اندراج اور بدعنوانی کے خاتمے کی راہ ہموار

اسلام آباد: وزیرمملک برائے ریونیو نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کا بنیادی مقصد تمام غیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے