,’ڈومور ,کہنے, والے ,آج ,افغانستان ,میں, امن, کیلئے ,ہماری, مدد, مانگ, رہے ,ہیں‘

’ڈومور کہنے والے آج افغانستان میں امن کیلئے ہماری مدد مانگ رہے ہیں‘

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان جو ہم سے ڈومور کہتے تھے آج وہی افغانستان میں امن کے لیے ہماری مدد مانگ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قوم نظریے سے ہے اور جب نظریہ ختم ہوتا یا مرتا ہے تو قوم بھی نہیں رہتی، نوجوانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان کیوں بنا اور ایسا کیا ہوا کہ قائد اعظم کانگریس سے علیحدہ ہوئے اور مسلمانوں کے لیے الگ ملک کے لیے جدوجہد کی۔

قائد اعظم نے کوشش کی کہ مسلمان اور ہندو متحد رہیں لیکن قائد اعظم نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے لیے الگ ملک کا ہونا ضروری ہے۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کیوں بنا، آج بھارت میں مسلمانوں کا جو حال ہے اس سے نظر ہی نہیں آتا وہاں مسلمانوں کو برابر کے حقوق ملیں گے کیونکہ وبھارت میں مسلمانوں کا آج کوئی قائد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر قائد اعظم کی مخالفت کی گئی اور ان پر حملے کیے گئے لیکن وہ نظریہ پاکستان کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔

قائد اعظم کی قائدانہ صلاحیت، ذہنیت کی وجہ سے پاکستان معرض وجود میں آیا کیونکہ اس وقت کوئی نہیں سمجھ رہا تھا کہ پاکستان بنے گا۔

یہ ملک بڑی مشکلوں سے بنا ہے، آج بھارت میں جو مسلمانوں کا حال ہے وہ دیکھ کر لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظم کی نظریہ پاکستان درست تھا۔

قائد اعظم ہمارے سیاسی جبکہ علامہ اقبال ہمارے نظریاتی رہنما تھے اور ان کی سوچ تھی کہ ہم ایسا ملک بنائیں گے جو پوری مسلم دنیا کے لیے مثال بنے گا۔

شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش

علامہ اقبال کی سوچ تھی کہ پاکستان ایک صحیح معنوں میں اسلامی ریاست ہو اور ایک صحیح اسلامی ریاست مدینہ کی ریاست کی طرح ہے۔

فلاحی ریاست کی بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ کی فلاحی ریاست کے اصول پر عمل کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرو اور مدینہ کی ریاست مسلمانوں کی دنیا پر حکمرانی کی بنیاد رکھی۔

فلاحی ریاست کے اصول میں سب سے اوپر عدل و انصاف ہے کیونکہ کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہاں عدل و انصاف نہ ہو۔

مدینہ کی ریاست کے بڑے جمہوری اصول تھے، قانون کی بالادستی تھی اور خلیفہ وقت بھی جوابدے تھے اور سب قانون کے دائرے میں تھے اور ایک میرٹ کا نظام تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں ہم سے کہا گیا کہ ’ڈومور‘ کریں ہم آپ کو پیسے دے رہے ہیں،

عمران خان کا کہنا تھا کہ آج ہم عظیم ملک اس لیے نہیں بن سکے کہ ہم نے جھ کر، ہاتھ پھیلا کر اپنے لوگوں کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اگر ہم نے سپر پاور کے لیے جنگ نہیں لڑی تو ملک تباہ ہوجائے گا، مگر میں آج واضح کردوں کہ ہم نہ کسی کی جنگ لڑیں گے نہ کسی کے سامنے جھکیں گے بلکہ ہم سب سے امن چاہیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں ہم سے کہا گیا کہ ’ڈومور‘ کریں ہم آپ کو پیسے دے رہے ہیں، آپ ہماری جنگ لڑیں، میں نے جب بھی کہا تھا کہ افغانستان کا حل جنگ سے نہیں ہے اور آج شکر ہے وہ لوگ جو ہمیں ڈومور کا کہہ رہے تھے وہی آج افغانستان میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیں مدد کا کہہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نے اس قوم کو سب کچھ دیا ہے اور یہ قوم عظیم قوم بنے گی، قوموں کی زندگیوں میں اونچ نیچ آتی ہے لیکن جب بھی مسلمان اوپر گیا وہ قرآن کے اصولوں پر چل کر گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بجلی چوری, پر, قابو پانے سے, اٹھاون ارب روپے, حاصل ہوئے

بجلی چوری پر قابو پانے سے اٹھاون ارب روپے حاصل ہوئے

اسلام آباد: بجلی کے بلوں کی وصولی میں اکیاسی ارب روپے کے اضافہ پر وزیراعظم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے