پاکستان سے آنے, والے سات ہزار لوگ, انڈیا, کی, شہریت ,چاہتے ہیں

پاکستان سے آنے والے سات ہزار لوگ انڈیا کی شہریت چاہتے ہیں

انڈیا: مغربی ریاست راجستھان میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں اور پاکستان سے نقل مکانی کرنے والی ہندو اقلیت کی آبادکاری کا مطالبہ انتخابی مسئلہ بنا ہوا ہے

ملک کی دونوں اہم پارٹیوں بی جے پی اور کانگریس نے اپنے اپنے منشور میں ان کی فلاح و بہبود کا وعدہ کیا ہے لیکن پاکستان سے ہندوستانی شہریت کی امید میں نقل مکانی کرنے والے ہندوؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے انھیں مایوس کیا ہے۔
جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ کانگریس تو بنگلہ دیشی اور برما کے دراندازوں کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے۔ اسے کب سے ہندوؤں کی فکر شروع ہوگئی۔
ان کے لیے آواز بلند کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے پاکستان سے آنے والے سات ہزار لوگ انڈیا کی شہریت چاہے ہیں۔
مرکزی حکومت نے شہریت دینے کا عمل شروع کیا تھا لیکن اب تک صرف پانچ سو افراد کو انڈیا کی شہریت دی گئی ہے۔
بی جے پی نے اپنے منشور میں شہریت دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ کانگریس نے اپنے منشور میں ان بے گھر افراد کی مجموعی ترقی کا وعدہ کیا ہے۔
کانگریس نے ان پاکستانی ہندوؤں کے لیے ایک باڈی قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
راجستھان میں اس سے قبل سنہ 2004-5 میں 13 ہزار پاکستانی ہندوؤں کو ہندوستان کی شہریت دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے دوران سرحد پار سے بڑی تعداد میں پاکستان سے ہندو اقلیتیں انڈیا آئی تھیں۔
اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ راجستھان کے صحرائی علاقے میں ان کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے۔
اکستان کے رحیم یار خان ضلع سے آنے والے گووند بھیل اب ہندوستانی شہری ہیں۔ انھیں ایک دہائی پہلے انڈیا کی شہریت ملی تھی لیکن اب بھی ان کے بہت سے رشتے دار جو انڈیا میں پناہ گزین ہیں شہریت کے لیے پریشان ہیں۔
گووند بھیل نےکہا: ‘بی جے پی سے بڑی امیدیں تھی لیکن بی جے پی نے امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس کے مقابلے میں کانگریس نے منشور میں ہمارے مسئلے کے حل کے لیے زیادہ اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔ بی جے پی نے ہماری آبادکاری پر کوئی خاص کام نہیں کیا۔
وہ کہتے ہیں: ‘کانگریس نے ہمارے تمام مسائل پر مناسب طریقے سے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے مگر بی جے پی نے ان ہندو مہاجرین کو نظر انداز کیا ہے۔ ایسے میں ہمارے لوگ مایوس ہوئے ہیں کیونکہ انہیں بی جے پی سے زیادہ امیدیں تھیں۔’
وہ کہتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے کمیونٹی کی آبادکاری کے لیے دو سال قبل ایک حکم جاری کیا تھا لیکن اس پر عمل در آمد کی رفتار بہت سست رہی ہے۔
ہندوستانی قانون کے مطابق کوئی پاکستانی سات سال تک انڈیا میں رہائش کے بعد ہی شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
مرکزی حکومت نے ان ہندوؤں کے لیے طویل مدتی ویزے کی درخواست قبول کی تھی۔ اس کے تحت شہریت نہ ہونے کے باوجود انھیں انڈیا میں کاروبار اور ملازمت کی اجازت تھی۔
ان میں سے زیادہ تر ہندو قبائلی برادری بھیل یا دلت برادری سے آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک پاکستان میں مذہبی طور پر تکلیف دیے جانے اور امتیازی سلوک کی کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔
گذشتہ سال پولیس نے ایک بھیل خاندان کے نو ارکان کو زبردستی پاکستان واپس بھیج دیا تھا۔ اس پر بہت ہنگامہ برپا ہوا تھا اور تنظیم کے لوگ معاملے کو راجستھان ہائی کورٹ میں لے گئے تھے۔
ہائی کورٹ نے چندو بھیل اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان بھیجنے پر روک لگا دی تھی لیکن حکم پر تعمیل ہونے سے پہلے ہی حکام نے چندو بھیل اور ان کے خاندان کو تھر ایکسپریس سے روانہ کر دیا تھا۔
ان ہندوؤں میں سے ایک گووند بھیل کہتے ہیں: ‘چندو اور ان کا خاندان منتیں کرتا رہا لیکن کسی کا دل نہیں پسيجا۔ یہ پہلی بار تھا جب پناہ کی فریاد لے کر آنے والے کسی ہندو خاندان کو جبراً واپس بھیج دیا گیا ہو۔
ریاستی کانگریس کے سکریٹری سشیل آسوپا کہتے ہیں کہ ‘کانگریس کو پتہ ہے کہ یہ لوگ کمزور طبقوں سے آتے ہیں اور ان کی اقتصادی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ لہذا ایک باڈی تشکیل دے کر ان کی مجموعی آبادکاری کی بات کی گئی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ بی جے پی نے ان بے گھر افراد کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس بیان پر بی جے پی کے ترجمان سودھانشو تریویدی نے کانگریس پر جوابی حملہ کیا۔
ترویدی نےکہا: ‘کانگریس نے پاکستان سے آئے ہندو اور سکھ برادری کے لوگوں کے کام میں رخنے ڈالے۔ چونکہ راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں ہے، لہذا شہریت کے قانون میں ترمیم نہیں ہو سکی۔ پھر بھی حکومت نے ویزا قوانین میں تبدیلی کر کے ان مہاجرین کے لیے طویل مدتی ویزا جاری کیا۔ اب وہ پین کارڈ لے سکتے ہے، کام کر سکتے ہیں ہے، زمین جائیداد خرید سکتے ہیں۔ یعنی ووٹنگ کے علاوہ انھیں تمام سہولیات دستیاب ہیں۔’
وہ کہتے ہیں کہ اس معاملے پر بی جے پی حساس ہے اور جو بھی ضروری ہو گا وہ کیا جائے گا۔
پاکستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے یہ ہندو جودھ پور میں آباد ہیں جہاں وہ مشکل حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے