لیبیا میں ہزاروں تارکینِ وطن کو بچا لیا گیا

واضح رہے کہ لیبیا میں عدمِ استحکام نے اسے انسانی سمگلنگ کا گڑھ بنا دیا ہے۔

یہ کارروائی لیبیا کی بندرگاہ سبراتھا سے 20 کلو میٹر کی گئی اور اس میں اٹلی کے علاوہ یورپی یونین کی بارڈر ایجنسی فرانٹیکس، غیر سرکاری تنظیموں پرو ایکٹو اوپن آرمز اور میدساں سان فرنتیر کی کشتیوں نے حصہ لیا۔

اے پی کے مطابق تارکینِ وطن کو بحری سفر کے نا قابل کشیتوں میں ضرورت سے زیادہ افراد کو لیبیا کی بندرگاہ سبراتھا سے روانہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس یورپ میں بھی تقریبا دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کا بحران پیدا ہوا۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ 2015 کے دوران دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

ادارے کے مطابق ساڑھے آٹھ لاکھ تارکینِ وطن ترکی سے یونان میں داخل ہوئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد لیبیا سے بحیرۂ روم عبور کر کے اٹلی پہنچے۔

سنہ 2014 کے مقابلے میں سمندر کے راستے یورپ آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 2014 میں محض 216000 افراد سمندر کے راستے یورپ آئے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد اب یورپ کو تارکینِ وطن کے بحران کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے