جاں بحق, ہونے, والے, تمام 6 بچے مٹھی کے سول ہسپتال, میں, زیرِ علاج تھے

جاں بحق ہونے والے تمام 6 بچے مٹھی کے سول ہسپتال میں زیرِ علاج تھے

مٹھی: گزشتہ 2 روز کے دوران اس علاقے کے 7 بچے بیماریوں اور انفیکشن کے باعث ہسپتال میں اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے

آج جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان بچوں کو آلودہ پانی پینے اور خراب غذا کی وجہ سے بیماریوں کا سامنا ہوا تھا۔

شعبہ صحت کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ اب تک صوبے میں گزشتہ 11 ماہ کے دوران 6 سو ایک بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ہسپتال آنے والے والدین بتاتے ہیں وہ لوگ کنویں کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے وہ لوگ بالخصوص ان کے بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔
غذا اور صحت کے ماہرین نے حکومت سندھ کے متعلقہ شعبے پر زور دیا ہے کہ بچوں کی اموات کو روکنے کے لیے پالیسی بنائے جائے اور کوئی طویل مدتی منصوبہ لایا جائے۔
سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں صحت کی صورتحال ابتر ہونے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کو خوراک اور پانی کی بھی شدید کمی کا سامنا ہے۔
مذکورہ عناصر کی وجہ سے ہی تھر کے دور دراز کے علاقوں میں اکثر بچے جان لیوا بیماریوں کا شکار ہوکر جاں بحق ہوجاتے ہیں۔
ان میں سے اکثر والدین بچوں کو قریبی ہسپتال یا پھر صحت کے مراکز میں علاج معالجے کے لیے لے جاتے ہیں، لیکن پھر بھی اکثر بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ, کی ویکسین کے, لیے وفاق کے, منتظر ہیں

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی ویکسین کے لیے وفاق کے منتظر ہیں

کراچی: وزیر صحت سندھ نے کہا کہ محکمہ صحت ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے نمٹنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے