فرانس میں عوامی مظاہروں اور احتجاج میں وسعت اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی وجہ سے ملک میں سیاسی اور سماجی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔

فرانس میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت

فرانس میں عوامی مظاہروں اور احتجاج میں وسعت اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی وجہ سے ملک میں سیاسی اور سماجی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔

  • فرانس کے صدر عمانو‏ئیل میکرون نے وزیرا‏عظم کو حکم دیا ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے نمائندوں سے بات چیت کریں تو دوسری جانب فرانسیسی سیاستدانوں اور خاص طور سے سینیٹ کے ارکان نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر حکومت سے وضاحت طلب کرلی ہے۔سینیٹ کے چیئرمین جیراڈ لارشے نے صدر عمانوئیل میکرون نے سے کہا ہے وہ ملک میں احتجاج کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے بارے میں وضاحت پیش کریں۔ سینیٹ نے منگل کے روز وزیر داخلہ کرسٹوفر کاستنر کو مواخذے کے لیے ایوان میں طلب کرلیا ہے۔فرانس کافی عرصے سے بے روزگاری اور افراط زر کی شرح میں مسلسل اضافے سے دوچار ہے اور حال ہی میں حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے خلاف شروع ہونے والا مظاہروں کا سلسلہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہوگیا ہے۔صدر میکرون نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں اقتصادی اور سماجی اصلاحات کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ملک کی صورتحال کو بہتر بنانا تھا لیکن عوام نے ان کے اصلاحاتی منصوبوں کو قبول نہیں کیا۔ حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ سرکاری اصلاحات میں عوام کی ضرورتوں اور مطالبات کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔کچھ عرصہ قبل حکومت کی جانب سے ملازمتوں کے حوالے سے ملکی قوانین میں کی جانے والی اصلاحات کے خلاف بھی عوام نے زبردست احتجاج کیا تھا جس کا سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا۔اب عوام نے حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان پر احتجاج اور مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے جسکا دائرہ دارالحکومت پیرس کے علاوہ کئی شہروں تک پھیل گیا ہے۔یلوویسٹ کے نام سے مشہور ہونے والے مظاہروں میں شریک لوگوں نے سترہ نومبر کو ملک کی بڑی شاہراہوں کو بند کردیا تھا اور سڑکوں پر آگ لگا کر تجارتی علاقوں اور کارخانوں تک رسائی روکنے کی کوشش تھی۔فرانس میں احتجاج اور مظاہرے حکومت اور خاص طور سے صدر عمانوئیل میکرون کے لیے ایک چیلنج میں تبدیل ہوگئے ہیں اور بہت سے مخالفین اور مظاہرین نے ان کے استعفے کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔مظاہرین کے خلاف پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال نے صورتحال کو میکرون حکومت کے لیے مزید ابتر بنادیا ہے۔فرانسیسی پولیس نے پچھلے چند روز کے دوران ہونے والے مظاہروں میں شریک لوگوں کے خلاف اشک آور گیس کے علاوہ بے ہوش کرنے والے دستی بم بھی استعمال کیے ہیں۔ جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں کا بھی استعمال کیا ہے۔ بعض رپوٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سات سو کے قریب لوگوں کو مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا ہے جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔
  • وزیراعظم عمران خان کی سینیئر صحافیوں اور اینکر پرسن سے خصوصی گفتگو

یہ بھی پڑھیں

دنیا میں یہ, واحد درخت ہے جو کسی, فٹبال کلب, کا رکن, بھی ہے

دنیا میں یہ واحد درخت ہے جو کسی فٹبال کلب کا رکن بھی ہے

پیراگوئے:گراؤنڈ میں بڑھتے ہوئے درخت کو اپنی ٹیم کا آفیشل مداح قرار دیتے ہوئے اسے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے