خادم رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات میں مقدمہ درج

اسلام آباد : وفاقی حکومت کا تحریک لیبک پاکستان کے سربراہ خادم رضوی سمیت تمام قائدین کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ چلانے کا اعلان۔

وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ تحریک لبیک نے جس طرز کی سیاست کا آغاز کیا وہ نہ صرف پاکستانی قانون کے خلاف تھی بلکہ آئین پاکستان کو بھی للکارا گیا۔

خادم حسین رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات میں لاہور کے سول لائنز تھانے میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، افضل حسین قادری کے دوسرے اہم رہنما کے خلاف گجرات، عنایت الحق شاہ کے خلاف تھانہ روات راولپنڈی اور حافظ فاروق الحسن کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات پر مقدمات درج کر دیے گئے ہیں۔

یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام لوگ جو براہ راست املاک کو تباہ کرنے میں اور جنہوں نے سڑک پر خواتین کو روک کر بدتمیزی کی، جنہوں نے بسوں کو آگ لگائی اور لگ بھگ 5 کروڑ کا نقصان پہنچایا اس میں تمام متحرک لوگوں کے خلاف متعلقہ تھانوں میں مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بغاوت کی سزا عمر قید ہے، ان کو دہشت گردی اور بغاوت میں 124 پی پی سی میں چارج کیا گیا ہے جس میں ان کے خلاف عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے اور قانون کے مطابق جو سزا ہوگی انہیں دی جائے گی

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے