میں, اپنے بچوں, کا باپ، اپنا شوہر، اپنا, ساتھی ,ڈھونڈ رہی ہوں

میں اپنے بچوں کا باپ، اپنا شوہر، اپنا ساتھی ڈھونڈ رہی ہوں

اسلام آباد: اب وقت آ گیا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان ہیں اور عارف علوی صاحب ملک کے صدر۔ انھوں نے جو وعدے سڑکوں پر، ہمارے کیمپوں میں آ کر کیے تھے، وہ اب ان کو نبھانے ہوں گے

یہ کہنا ہے آمنہ جنجوعہ کا جو سنہ 2005 سے ملک میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔ اس مہم کا محرک خود آمنہ کے شوہر مسعود جنجوعہ کی 13 برس قبل گمشدگی بنی تھی۔
اس معاملے کے سپریم کورٹ تک پہنچنے کے باوجود آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ مسعود جنجوعہ جو استاد اور آئی ٹی کے ماہر تھے، اس وقت کہاں ہیں۔
اسلام آباد کے ڈی چوک پر جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے لیے لگائے جانے والے احتجاجی کیمپ میں آمنہ کے علاوہ کئی اور لاپتہ افراد کے لواحقین بھی موجود ہیں جو آمنہ کی طرح کئی سالوں سے اپنے گمشدہ والد، بھائی، بھتیجوں یا بھانجوں کی تلاش میں ہیں۔ ان میں فاٹا، وزیرستان، سوات، صوابی اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جن میں زیادہ تر تعداد بزرگ خواتین اور مردوں کی ہے۔
آمنہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے لیے ان افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔
’اس حکومت کے بہت اچھے تعلقات ہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ۔ تو ان کے لیے یہ نادر موقع ہے۔ پہلی بار ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہے، تو یہ کام خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔‘
جس دور میں انھوں نے مسعود جنجوعہ کی بازیابی کے لیے مہم شروع کی تھی اس وقت حالات بہت مختلف تھے۔
’میں نے تین طرح کے ادوار دیکھے ہیں۔ ایک پرویز مشرف کا دور تھا۔ اس وقت کے چند جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد آج تک واپس نہیں آئے جن میں میرے شوہر بھی شامل ہیں۔ پھر 2014 میں بھی ایک کٹھن دور تھا، جب میڈیا کی طرف سے گمشدہ افراد کی خبر چلانے پر بلیک آؤٹ ہونا شروع ہو گیا۔‘اور ایک دور آج کا ہے جہاں آمنہ جنجوعہ کے بقول، ایک طرف مختلف صوبوں میں چلنے والی تحریکوں کے نتیجے میں گمشدہ افراد ’زیادہ نہیں تو چھ ماہ یا ایک سال کے اندر گھر واپس آجاتے ہیں۔ تو دوسری طرف آزادی رائے اور انسانی حقوق پر کام کرنے والوں سے بہت بری طرح سے نمٹا جا رہا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔‘
آمنہ نے کہا کہ ان کا ذاتی دُکھ انھیں احتجاج میں شامل ہونے پر اکساتا بھی ہے اور ہمت بھی دیتا ہے۔
میں اپنے بچوں کا باپ، اپنا شوہر، اپنا ساتھی ڈھونڈ رہی ہوں، پوری دنیا میں پھِر رہی ہوں اور کوئی ایسا فورم نہیں ہے، اقوامِ متحدہ سے لے کر ایمنسٹی انٹرنیشنل ہیومن رائیٹس واچ، جہاں پر میں نہیں گئی ہوں اور میں نے دستک نہ دی ہو۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مہم ہر حال میں جاری رکھیں گی۔ ’‎یہ زخمی دل کی وجہ سے ہے کہ میں اپنی تحریک کو جاری رکھ سکتی ہوں جب تک مجھے جواب نہیں ملیں گے اور اس کے بعد بھی، میرا شوہر مجھے مل بھی گیا تب بھی، کیونکہ میں اب اس غم کو بہت اچھی طرح سمجھ چکی ہوں، تو میں اس کے آگے ہار نہیں مان سکتی۔‘
آمنہ جنجوعہ کی جانب سے ماضی میں میڈیا میں دیے گئے بیانات کے مطابق ان کو کئی بار دھمکیاں دی گئیں جس سے ان کی ذاتی زندگی اور خاص طور سے اپنے شوہر کو بازیاب کرانے کی تحریک متاثر ہوئی۔ اس سوال پر کہ کیا یہی وجہ تھی کہ وہ کچھ عرصے منظرِعام سے غائب رہیں؟ آمنہ کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے۔ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں شامل تھی۔ ساتھ ہی باقی صوبوں میں چلنے والی تحریکوں کے بارے میں بھی معلومات رکھتی رہی ہوں۔‘
’ہم پاکستان کے ہر شہر میں مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ کیس میرے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ جن میں سے تقریباً 950 اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

راولپنڈی: مہناز سعید کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں انہیں غیر قانونی سہولیات فراہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے