مریخ جیسے حالات میں ایک سال گزارنے کا مشن مکمل

ٹیم 29 اگست 2015 سے ایک گنبد نما بند احاطے میں مقیم تھی جہاں نہ تو تازہ ہوا تھی اور نہ ہی تازہ خوراک۔

ماہرین کا اندزہ ہے کہ سرخ سیارے مریخ پر انسانی مشن کی روانگی آئندہ ایک سے تین سال کے درمیان ممکن ہو سکتی ہے۔

مریخ جیسے ماحول میں زندہ رہنے کے تجربے کو یونیورسٹی آف ہوائی نے شروع کیا تھا اور امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔

یہ اپنی طرز کا طویل مشن تھا اس سے پہلے روس کا ایک مشن 520 دن تک جاری رہا تھا۔

ہوائی سپیس ایکسپولریشن اینالوگ کے محقق کم بنسٹیڈ کا کہنا ہے کہ اب تحقیق کے لیے سمندر کا رخ کیا جائے گا جہاں تازہ پیداوار اور دوسری غذا موجود ہو گی جو اس گنبد میں نہیں تھیں۔

چھ افراد کی اس ٹیم میں چار امریکی، ایک جرمن ماہرِ طبیعیات اور ایک فرانسیسی خلائی ماہرِ حیاتیات شامل تھے۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے چار افراد میں ایک پائلٹ، ماہرِ تعمیر، ایک صحافی اور ایک سائنسدان تھا۔

ان افراد کا کام تحقیق کرنے کے ساتھ محدود وسائل کے ساتھ زندہ رہنا تھا۔ احاطے سے باہر نکلنے پر انھیں لازمی طور پر خلائی لباس پہننا پڑتا تھا۔

ان چھ افراد کے پاس سونے کے لیے ایک چھوٹی سی چارپائی تھی اور ان کے کمروں میں ایک ڈیسک بھی موجود تھا۔ خوراک کے لیے انھیں پاؤڈر پنیر اور ٹونا مچھلی پر انحصار کرنا تھا۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر مشن کا دورانیہ چھ ماہ ہوتا ہے

 

یہ بھی پڑھیں

کاربن ڈائی آکسائیڈ, فضا میں, کیسے پھیلتی, ہے

کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں کیسے پھیلتی ہے

ناسا: یہ سیٹلائیٹ سنہ 2014 میں مدار میں اسی مقصد کے لیے بھیجے جانے والے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے