جمال خاشقجی کے قتل میں محمد بن سلمان ملوث نہیں، امریکی وزیر خارجہ

جمال خاشقجی کے قتل میں محمد بن سلمان ملوث نہیں، امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ملوث نہیں ہیں، ایسے ثبوت نہیں ملے کہ سعودی ولی عہد واقعے میں براہ راست ملوث ہوں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ تمام انٹیلی جنس رپورٹس جو میری نظروں سے گزری ہیں سعودی ولی عہد اور جمال خاشقجی کے ترکی میں سعودی قونصلیٹ میں قتل کے درمیان براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کانگریس میں سعودی عرب کے خلاف قانون سازی کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت سعودی عرب کے خلاف قانون سازی کے لیے موزوں نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں کمی امریکا اور ہمارے اتحادیوں کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑی غلطی ہوگی، ہمیں اس وقت ایران کی طرف سے سنگین خطرات سے نمٹنے کے لیے کسی اتحادی کے خلاف ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جس سے ہماری مشترکہ جنگ متاثر ہو۔

مائیک پومپیو نے یمن جنگ کے حوالے سے کہا کہ یمن کی لڑائی میں اگر امریکا سعودی عرب کی مدد نہ کرے تو اس کے خاتمے کی جلد نوبت نہیں آئے گی۔

امریکی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ امریکا میں بعض حلقے جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ خاشقجی کی وجہ سے ٹرمپ پر تنقید کررہے ہیں دراصل یہ وہی لوگ ہیں جو ایران کی حمایت میں سابق صدر اوباما کے ساتھ تھے یہ لوگ خاشقجی کے قتل کی منصفانہ تحقیقات کے بجائے درپردہ ایران کی حمایت کررہے ہیں۔

یورپ کو روس کا انتباہ

یہ بھی پڑھیں

مختلف ملکوں کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت

مختلف ملکوں کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت

شام کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ جولان کی بلندیوں کے بارے میں امریکی صدر کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے