عراق میں 200 سال پرانا بازار نذر آتش، 1 ارب ڈالر کا نقصان

عراق میں 200 سال پرانا بازار نذر آتش، 1 ارب ڈالر کا نقصان

بغداد

عراقی شہر کرکوک میں واقع تاریخی بازار القیصریہ میں بہت بڑے پیمانے پر آگ لگنے کا واقعہ پش آیا ہے جس کے باعث 365 دکانیں اور 22 گودام جل کر راکھ ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے مشہور شہر کرکوک گورنری میں قائم تاریخی بازار القیصریہ جل کر خاکستر ہوگیا، اس آتشزدگی کے نتیجے میں تقریباً ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

بازار میں موجود جیولری مارکیٹ کی یونین کے چیئرمین حقی اسماعیل نے بتایا ہے کہ بازار میں قائم 365 دکانیں اور 22 گودام جل کر راکھ ہوئے اور آگ کے نتیجے میں ایک ارب ڈالر کے ہیرے جواہرات، سونا چاندی، نقدی اور دیگرسامان جل گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخی بازارکو منظم منصوبے کے تحت آگ لگائی گئی، اس کا مقصد تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل بازار سے کرکوک کو محروم کرنا ہے۔

کرکوک کے گورنر راکان سعید الجبوری کے مطابق نذر آتش ہونے والا  القیصریہ بازار 1805ء میں خلافت عثمانیہ کے دور میں ‌قائم کیا گیا تھا، یہ ایک تاریخی ورثہ اور کرکوک کی ثقافتی اور تہذیب کی علامت تھا جسے شرپسند عناصر نے غیرمعمولی نقصان پہنچایا ہے۔

بازار  کے نذرآتش ہونے کے افسوس ناک واقعے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ بازار کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے وزارت ثقافت کے ساتھ مل کر کام شروع کیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے