فوجی افسرکو, خانہ جنگی, کے دوران کسی جرم, میں ملوث, ہونے پر, سزاسنائی

فوجی افسرکو خانہ جنگی کے دوران کسی جرم میں ملوث ہونے پر سزاسنائی

کولمبو: ایڈمرل روندرا وجے گنارتنے وہ اعلیٰ ترین فوجی افسر ہیں جنہیں عدالت نے خانہ جنگی کے دوران کسی جرم میں ملوث ہونے پر سزا سنائی ہے

سری لنکن فوج کو خانہ جنگی کے دوران شہریوں کے خلاف بدترین مظالم کا قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔
طاقت ور چیف آف ڈیفنس کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ایک اہم گواہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور کیس سے ایک پولیس مخبر کو ہٹوادیا۔
ایڈمرل روندرا وجے گنارتنے فوجی افسران کے جمِ غفیر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اعلیٰ سطح کے قتل میں مرکزی ملزم، جو نیوی کا انٹیلی جنس افسر تھا، کو تحفظ فراہم کرنے اور جرم کو چھپانے کے الزامات سے انکار کیا۔
رواں ماہ فوجی سربراہ کے خلاف 3 وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے لیکن انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا اور پیش ہونے کے بجائے صدر کے سفیر کی حیثیت سے میکسیکو کے دورے پر چلے گئے تھے۔
سری لنکا کے اعلیٰ فوجی افسران پر دہائیوں سے جاری رہنے والی خانہ جنگی کےدوران سنگین جرائم اور شہریوں سے بدسلوکی کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن اب تک وہ استغاثہ کی طرف سے استثنیٰ حاصل کرتے آئے ہیں۔
اس بارے میں تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ ایڈمرل روندرا وجے گنارتنے نے 11 افرادکے قتل میں مرکزی ملزم چندانہ پرساد ہیٹیا رچی کو معاونت فراہم کی جو ایک نیول انٹیلی جنس افسر تھا۔
مذکورہ شخص پر الزام ہے کہ اس نے 2009 میں اختتام پذیر ہونے والی خانہ جنگی کے آخری ایام کے دوران امیر نوجوانوں کو تاوان کے لیے اغوا کیا اور بعدازاں قتل کردیا جبکہ ان نوجوانوں کی لاشیں آج تک نہیں مل سکیں۔
ایڈمرل روندرا وجے گنارتنے براہ راست قتل میں ملوث نہیں البتہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر چندانہ پرساد ہیٹیا رچی کو گرفتاری سے بچا کر ملائیشیا فرار ہونے میں مدد کی، جسے واپس آنے پر رواں برس اگست میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

مختلف ملکوں کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت

مختلف ملکوں کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت

شام کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ جولان کی بلندیوں کے بارے میں امریکی صدر کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے