ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے امیگریشن کو کنٹرول کریں گے

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو ترک کر سکتے ہیں۔تاہم وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ آنے کے لیے درخواست دینے والوں کی سکریننگ کے عمل کے تحت پتہ لگایا جائے گا کہ وہ اعتدال پسند ہیں یا نہیں اور دوسرے مذاہب کے بارے میں کہیں وہ کٹر خیالات تو نہیں رکھتے۔

امریکی شہر آئیوا میں انتحابی مہم کے دوران اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکینِ وطن کی ملک میں آمدورفت سے متعلق پروگرام کو ’انٹری، ایگزٹ‘ کا نام دیا اور بتایا کہ اس میں ان افراد کی جاسوسی کی جائے گی جو امریکہ میں ویزے کی معیاد سے زیادہ قیام کریں گے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے میکسیکو کے ساتھ موجود اپنی جنوبی سرحد پر دیوار بنانے کے عزم کی ایک بار پھر حمایت کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تارکینِ وطن کو غیر قانونی طور پر کسی بھی قسم کی مراعات دیے جانے کے عمل کو بھی روکیں گے۔

ان کے الفاظ کچھ یوں تھے ’میں سرحد پر ایک بڑی دیوار تعمیر کرنے، پورے ملک میں کاروبار کرنے والوں کی قانونی حیثیت کا پتہ لگانے کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے ’ای ویریفائی‘ ، غیر قانونی تارکینِ وطن کو فلاح وبہبود تک رسائی کو روکنے، اور ویزے کی معیاد ختم ہونے کے باوجود یہاں رکنے والوں کو جلدازجلد نکالنے کے لیے لیے ایگزٹ انٹری ٹریکنگ سسٹم بنانے جا رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ امریکہ میں ایک کروڑ دس لاکھ افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ اس سے قبل مسٹر ٹرمپ نے کہا تھا کہ صرف مجرموں کو ملک بدر کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا ہے اور اس نے بڑے سیلابی ریلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاؤں میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے لداخ ڈیم کے 3 اسپل ویز کھول دیئے ہیں جن کا پانی خرمنگ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے دریائے ستلج میں بھی بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا ہے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلہ آج دن 11 بجے ہیڈگنڈا سنگھ والا کے مقام سے پاکستان میں داخل ہو گا اور پھر 30 گھنٹے بعد ہیڈ سلیمان کے راستے بہاول نگر میں داخل ہو گا۔ ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈئیر مختار احمد کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بریگیڈئیر مختار احمد کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے 2 لاکھ کیوسک پانی پاکستانی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ عملاً معطل کر دیا ہے: ڈپٹی کمشنر انڈس واٹر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مسلسل آبی جارحیت جاری ہے، اس نے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر دیا ہے۔ شیراز میمن نے کہا کہ بھارت نے ہر قسم کی واٹر ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی ہے اور ڈیموں سے پانی کے اخراج پر پیشگی اطلاع نہیں دی، وہ مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکم جولائی سے ستمبر تک کا دریاوں کا ڈیٹا بھی نہیں بھیجا، کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے شیڈول اجلاس بھی نہیں ہو رہے، بھارتی رویئے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 20 اور 21 اگست سے گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ 80 تا 90 ہزار کیوسک ہونےکا امکان ہے جو ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک بھی جا سکتا ہے۔ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ہیڈ سلیمانکی پر بھی بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ گزشتہ72گھنٹے میں راوی، بیاس اور ستلج کے بالائی علاقوں میں انتہائی شدید بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بھاکرہ ڈیم اور زیر علاقوں سے آنے والا پانی سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بھارت کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے