سارک

کرتارپور راہداری کا مطلب یہ نہیں کہ دوطرفہ مذاکرات شروع ہوجائیں گے، بھارتی وزیرخارجہ

 سشما سوراج کا کہنا تھا کہ ‘نہ ہم سارک اجلاس میں جائیں گے اور نہ پاکستان سے مذاکرات کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کے بھارتی حکومت کے دیرینہ مطالبے پر پاکستان نے اب مثبت ردعمل دیا ہے، تاہم کرتار پور بارڈر سے آمدو رفت کیلئے ویزا ہوگا یا نہیں، یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔

سشما سوراج کا مزید کہنا تھا کہ ملکوں میں رابطے حکومت سے حکومت کے ہوتے ہیں انفرادی نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی وزیر سرکاری نہیں ذاتی حیثیت میں کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نارووال کے قریب کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔

سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کیلئے سابق بھارتی کرکٹر و سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو کی قیادت میں بھارتی وفد گزشتہ روز پاکستان پہنچا تھا۔

اس کے علاوہ ایک اور بھارتی وفد خاتون وزیر ہرسمرت کور اور ایچ ایس پوری کی سربراہی میں براستہ واہگہ آج لاہور پہنچا تھا۔

کرتارپور کوریڈور ڈیزائن سے متعلق معلوماتی بورڈ کے مطابق کرتارپور کوریڈور فیز1 میں ساڑھے چار کلو میٹر سڑک تعمیر کی جائے گی جبکہ بارڈر ٹرمینل کمپلیکس بھی تعمیر ہوگا۔

اس کے علاوہ کرتار پور کوریڈور میں دریائے راوی پر 800 میٹر پل، پارکنگ ایریا اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے فلڈ پروٹیکشن بند بھی تعمیر ہوگا۔

دوسرے فیز میں ہوٹل اورگوردوارہ کرتار صاحب کی توسیع کی جائے گی۔

شین وارن نے یاسر شاہ کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

یہ بھی پڑھیں

مشرقی فرانس میں ایک مسجد پر کار سے حملہ

مشرقی فرانس میں ایک مسجد پر کار سے حملہ

فرانس کے مشرقی علاقے کی ایک مسجد پر گاڑی سے حملہ کیا گیا ہے رشاٹوڈے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے