جمال خاشقجی کی آڈیو ٹیپ نہیں سنی اور نہ ہی سننا چاہتا ہوں، جان بولٹن

جمال خاشقجی کی آڈیو ٹیپ نہیں سنی اور نہ ہی سننا چاہتا ہوں، جان بولٹن

واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کی آڈیو ٹیپ نہیں سنی اور نہ ہی سننا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے عربی نہیں آتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے صحافیوں سے سوال کیا آپ بتائیں مجھے جمال خاشقجی کی آڈیو ٹیپ کیوں سننی چاہئے یہاں بیٹھے کتنے افراد کو عربی آتی ہے؟ جب عربی سمجھ ہی نہیں آتی تو سن کر کیا کرنا ہے۔

دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ کینیڈین انٹیلی جنس نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی ریکارڈنگ سنی ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ ترکی نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی ریکارڈنگ امریکا، برطانیہ سمیت کئی ممالک کو فراہم کی ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی ولی عہد کو کچھ پتا نہیں ہو تاہم سعودی عرب کی مدد کے بغیر اسرائیل کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ہمیشہ سعودی عرب کا اتحادی رہنا چاہتا ہے کیونکہ سعودیہ امریکا، اسرائیل اور دیگر ممالک کے لیے مفید ہے۔

خیال رہے کہ 2 اکتوبر میں سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی سفارت خانے گئے تھے جہاں انہیں قتل کردیا گیا تھا۔

بیس اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سفارت خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دی

یہ بھی پڑھیں

مختلف ملکوں کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت

مختلف ملکوں کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت

شام کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ جولان کی بلندیوں کے بارے میں امریکی صدر کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے