لاپتہ, افراد کی, عدم بازیابی, پر پولیس, حکام پر, برہمی

لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر پولیس حکام پر برہمی

سندھ : سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس نعمت اللہ پلپھوتو کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 50 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس رپورٹس افسانوی اور قصہ کہانیوں پر مبنی ہوتی ہیں، عدالت لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب سے بھر گئی ہے، حکومت اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
عدالت نے حکم جاری کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بھائی رضوان کو پی آئی بی کالونی سے حراست میں لیا گیا تھا لیکن ابھی تک ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔
اس کے علاوہ ایک درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ غفور کو نیو کراچی سے حراست میں لیا گیا اور2014 سے اب تک 8 جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
عدالت عالیہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ فیڈرل بی ایریا سے نور زمان کو 2015 میں لاپتہ کیا گیا اور ان کے وکیل نے بتایا کہ اب تک 6 جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں، مگر نور زمان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔
ایک اور درخواست گزار نے بتایا کہ محمد یونس کو 5 جنوری 2015 سے لاپتہ کیا گیا اور اس معاملے پر 6 جی آئی ٹیز بن چکی ہیں لیکن کوئی پیش رفت سامنے نہیں۔
بعد ازاں عدالت عالیہ نے پولیس حکام کو لاپتہ افراد کے حوالے سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں

معذور افراد, کو 5 فیصد کی, کم ترین شرح سود, پر رعایتی, قرض دینے, کا فیصلہ

معذور افراد کو 5 فیصد کی کم ترین شرح سود پر رعایتی قرض دینے کا فیصلہ

کراچی: ایس بی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بینک نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے