والدہ, انہیں, بتاتی تھیں, کہ ان کا ایک بھائی, انڈیا میں ہی رہ گیا
View of people, some on ox-drawn cart and others walking, as they migrate, following the Partition of India, October 1947. (Photo by Margaret Bourke-White/The LIFE Picture Collection/Getty Images)

والدہ انہیں بتاتی تھیں کہ ان کا ایک بھائی انڈیا میں ہی رہ گیا

لاہور: ماں کے کہنے پر ہم نے2002ء میں انڈیا گورداس پور ‘‘ پراچہ ‘‘ گاؤں کے صوبدار لال سنگھ کو خط لکھا

مکھن سنگھ کی جانب سے خط کا جواب آیا کہ تقسیم ہند کے بعد آپ کے بھائی اور اس کی بہن کی پروش میرے والد نے کی ہے اور ان کے نام میرے والد نے رکھے بے انت سنگھ اور بہن کا نام شیندو رکھا۔
ہم نے خط اردو میں لکھے اور ہماری والدہ نے بتایا تھا کہ مکھن سنگھ کو ہی صرف اردو آتی ہے اور جس وقت ہمیں خط کے ساتھ ہمارے بھائی کی تصویر آئی تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا کہ ہمارا بھی اس دنیا میں بھائی ہے اور ہم بھی لوگوں سے کہہ سکتے ہیں ہم بھی بھائی والی ہیں اور پھر ہماری خط و کتابت کے ذریعے بات چیت ہونے لگی ہمارا بھائی کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہے لیکن ہم سب نے ایک ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہے، دنیا میں بہن بھائی نہیں ملتے باقی سب رشتے مل جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف, سے سانحہ ماڈل ٹاؤن, سے, متعلق سوالات, پوچھیں, گے

نواز شریف سے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق سوالات پوچھیں گے

لاہور:آئی جی موٹر وے اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی کے ارکان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے