ترجیحات تبدیل،امریکا نے پاکستان کی امداد کم کردی

رواں سال امریکا پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے کم رقم فوجی اور سماجی امداد کی مد میں دے گا، امریکا کی ترجیحات میں تبدیلی کے باعث پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے لئے رقم کی فراہمی اور فوجی امداد کو روک دیا گیا ہے

سال دو ہزار گیارہ میں امریکا نے پاکستان کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی امداد دی تھی، رواں سال امریکی امداد ایک ارب ڈالر سے کم رہے گی۔ آئندہ سال پاکستان کو پنتیس کروڑ ڈالر کی فوجی امداد ملنے کی توقع ہے تاہم یہ امداد امریکی کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکا کی جانب سے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  امریکی حکام کی پاکستان سے متعلق مایوسی بڑھ رہی ہے، اسی مایوسی نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو متاثر کیے رکھا ہے۔

امریکی صدر نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی انتظامیہ کی مدت مکمل ہونے تک افغانستان میں 8400؍ فوجی رکھیں گے، اس طرح انہوں نے سال کے آخر تک تعداد کو آدھے تک پہنچانے کے منصوبے کو ختم کر دیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے طالبان کی حمایت بند کرنے سے انکار سے امریکا کی مایوسی نے اوباما انتظامیہ کو افغانستان میں نئی فوجی شمولیت سے دور رکھا ہے اور ساتھ ہی یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ چین کو امریکا اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات سے فائدہ ہوسکتا ہے

اس سے قبل اگست میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے پاکستان کو فوجی امداد کی مد میں 30 کروڑ ڈالر جاری نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور مؤقف اپنایا تھا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کررہا

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 اگست کو طلب

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 اگست کو طلب

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے