انصاف کے, ذریعے, ہی معاشرے, قائم, رہ سکتے ہیں

انصاف کے ذریعے ہی معاشرے قائم رہ سکتے ہیں

لندن : چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم فنڈ ریزنگ کے لیے لاہورسے چلا تویقین نہیں تھا کہ اس طرح کی پزیرائی ملے گی

جومحبت اورپیارآپ لوگوں نے نچھاورکیا وہ بے مثال ہے، اوورسیزبھائیوں، بہنوں کے دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہوئے دیکھے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ کوئی مشکل آتی ہے توسب سے پہلے قربانی اوورسیز پاکستانی مہیا کرتے ہیں، زلزلہ، سیلاب، زرمبادلہ کی پریشانی آئے تواوورسیز پاکستانی قربانی دیتے ہیں۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ منشا بم کے زیرقبضہ جائیداد کوایک دن میں واگزارکرایا، منشا بم طاقت ورآدمی تھا، گرفتاری دینے کے لیےعدالت میں بیٹھا رہا۔
انہوں نے کہا کہ بےخوف، بنا مصلحت انصاف کرنے والا قاضی ملا تو پاکستان ترقی کرے گا، کسی بھی اسلامی ملک میں حضرت عمرؓجیسی حکومت کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بینکوں کی کم ازکم پنشن کی رقم 8 ہزارمقرر کی، عدالتی حکم کے تحت بھینسوں کوٹیکے لگانے پرپابندی لگائی گئی۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پہلے ملک میں دل کے مریض کو ایک اسٹنٹ 4 لاکھ میں ڈالا جاتا تھا، عدالتی مداخلت کے بعد ہم نے اسٹنٹ کی قیمت ایک لاکھ مقرر کرائی۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے میڈیکل طلبہ کی فیس 6 لاکھ 40 ہزارمقرر کی تھی، نجی کالج میڈیکل کے طلبہ سے 34 سے 40 لاکھ فیس لیتے تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ منرل واٹروالے 4 لیٹرپرصرف ایک پیسہ ٹیکس دیتے تھے، سپریم کورٹ نے منرل واٹرپرٹیکس ایک روپے مقررکرایا۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ایک مہینے میں دل کےسوراخ والے بچے کا آپریشن ممکن کرایا، جگرکی پیوندکاری کرنے والے ڈاکٹرکوبرمنگھم سے پاکستان بلوایا۔
انہوں نے کہا کہ پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو والدین کے ترکہ سے حصہ دلایا، بہن کوحصہ نہ دینے والے بھائی نےعدالتی حکم پرایک دن میں حصہ دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کہتے ہیں تھرمیں پانی کے منصوبے لگائے، پروہاں پانی آج بھی نہیں، کیا تھر کے بچوں کوزندگی کا حق نہیں؟۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ مدینہ میں مواخات کے بعد سب سے بڑا مسئلہ پانی کی فراہی تھا، حضرت عثمان ؓنے یہودی سے کنواں خرید کروقف کیا۔
انہوں نے کہا کہ لاہورمیں پانی 400 فٹ نیچے جاچکا ہے، کوئٹہ میں زیرزمین پانی 1500 فٹ پرملتا ہے، آئندہ نسلوں کوبچانے کے لیے عشق اورہمت ہی درکارہے، آج پانی جتنا بچائیں اتناہی اہم ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 40 سال سے ڈیم نہیں بنے، کیا یہ مجرمانہ غفلت نہیں، سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ ہمارا ہے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کی ہمیں کوئی پروا نہیں، ڈیم کی تعمیرپاکستان میں ایک تحریک بن چکی ہے، 7ہزارروپے پنشن لینے والا ڈیم کے لیے ایک لاکھ روپے چندہ لےکرآیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیم کی تحریک پاکستان کی نہیں انسانیت کی تحریک بن گئی ہے، سکھوں نے کینیڈا سے ڈیم کے لیے 50 ہزارڈالرفنڈ بھیجا۔

یہ بھی پڑھیں

برطانوی وزیر اعظم کے بھائی نے بھی وزارت چھوڑ دی

برطانوی وزیر اعظم کے بھائی نے بھی وزارت چھوڑ دی

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی جو جانس نے بریگزٹ کے تنازع میں خاندانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے