روس اور, یوکرائن کے, مابین حالات ایک, بار پھر کشیدہ

روس اور یوکرائن کے مابین حالات ایک بار پھر کشیدہ

بحیرہ اسود : روس اور یوکرائن کے مابین حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے جب روس نے بحیرہ اسود میں کرائمین جزیرہ نما میں یوکرائن بحریہ کے دو جنگی کشتیوں سمیت تین جہازوں پر حملہ کیا اور ان پر قبضہ کر لیا ہے

دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اس واقعہ کی ذمہ داری عائد کی ہے اور پیر کو یوکرائن کی پارلیمان کے ممبران ملک میں مارشل لا عائد کرنے کے بارے میں ووٹ کریں گے۔
دونوں ملکوں کے دوران کئی عرصے سے جاری بحران کا تازہ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب روس نے یوکرائن پر ملک کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا الزام لگایا۔
روس نے اپنے جواب میں بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوو کے سنگم پر آبنائے کرچ پہ قائم برج کے نیچے اپنا بحری ٹینکر کھڑا کر کے راستہ بلاک کر دیا ہے۔
یوکرائن کی قیادت کی اہم ملاقات میں صدر پیٹرو پوروشینکو نے ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے روسی اقدامات کو ‘بلا اشتعال اور دیوانہ پن’ قرار دیا۔
2014 میں کرائمین جزیرہ نما پر روسی قبضے کے بعد دنوں ممالک کے حالات میں کشیدگی حالیہ دنوں میں دوبارہ بڑھ گئی ہے۔
اتوار کی صبح یوکرائن کے دو جنگی جہاز اور ایک کشتی بحیرہ اسود پر واقع بندرگاہ سے بحیرہ آزوو کی بندرگاہ ماریوپول کے سفر پر نکلے۔ یوکرائنی حکام کے مطابق روسیوں نے ان کشتیوں کا راستہ روکا اور انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا جب آبنائے کرچ کے برج کے نیچے ٹینکر کھڑا کر دیا گیا۔
اسی اثنا میں روس نے اپنے دو جنگی طیارے اور دو ہیلی کاپٹروں کو اس علاقے میں بھیج دیا۔ روسیوں نے یوکرائن پر الزام لگایا ہے کہ ان کی کشتیوں نے غیر قانونی طور پر روسی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کی وجہ سے انھوں نے سیکورٹی وجوہات پر راستہ بند کر دیا ہے۔
یوکرائن کی بحریہ نے بعد میں جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ان کی کشتیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور عملے کے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
روسی حکام نے بعد میں تصدیق کی کہ ان کی جانب سے یوکرائن کے جہازوں پر طاقت کا استعمال کیا گیا تاکہ انھیں آگے جانے سے روکا جائے لیکن عملے کے صرف تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یوکرائن کا کہنا ہے کہ انھوں نے روسیوں کو کشتیوں کے آمدو رفت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
یورپی یونین نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے کرچ پر راستے کو بحال کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔
نیٹو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ یوکرائن کی سلامتی اور ان کے قانونی حقوق کی حمایت کرتے ہیں اور انھوں نے روس پر زور دیا کہ وہ یوکرائن کے بحیرہ آزوو پر قائم بندرگاہ تک سفر میں رکاوٹیں پیدا نہ کرے۔
یوکرائن کے حکام نے اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل کے ایمرجنسی اجلاس بلانے کی درخواست کی اور مطالبہ کیا ہے کہ روس کے خلاف عالمی برادری قدم اٹھائے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا جیسا ملک اپنے اتحادی ملک ترکی کو مزید نقصان نہیں پہنچانے چاہے گا

انقرہ: ترک صدر نے روسی ہتھیار خریدنے کے بعد سے امریکا اور ترکی کے مابین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے