سویٹزر لینڈ کے شہریوں کی بڑی تعداد گائے کی سینگ کاٹنے کے حق میں بول پڑی

سویٹزر لینڈ کے شہریوں کی بڑی تعداد گائے کی سینگ کاٹنے کے حق میں بول پڑی

سویٹزر لینڈ : شہریوں نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے گائے کے سینگ کاٹنے کے عمل کو  درست قرار دیتے ہوئے گائے کے سینگ نہ کاٹنے کی مہم کو رد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گائے کے سینگ ہونے چاہییں یا نہیں؟ یہ موضوع آج کل سویٹزر لینڈ کے شہریوں میں وجہ گفتگو بنا ہوا ہے، اب یہ عام بحث مباحثے کا ہی موضوع نہیں رہا بلکہ سیاست اور حکومت بھی اس کی لپیٹ میں آچکی ہے۔

اس سلسلے میں اتوار کے روز ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ملک بھر کے عوام اپنے ووٹ سے یہ فیصلہ کریں گے کہ گائے کو سینگ رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں؟

اس ریفرنڈم میں سوئس شہریوں نے گائے کے سینگ کاٹنے کے حق میں فیصلہ سنا دیا، ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کے مطابق 53 فیصد شہری چاہتے ہیں کہ گائے کے سینگ کاٹے جانے چاہییں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ریفرنڈم میں سوئس شہریوں نے گائے کے سینگ نہ کاٹنے کی مہم کو رد کردیا ہے، اس رائے عامہ میں 47فیصد شہریوں نے سینگ نہ کاٹنے کے حق میں جبکہ 53 فیصد نے اس کے خلاف ووٹ دیا، خیال رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں تین چوتھائی گائیوں کے سینگ نہیں ہوتے یا پھر ان کے سینگ کو جلا دیا جاتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر بیرن میں ایک ڈیری فارم کے مالک کا خیال تھا کہ گائے کے سینگ کاٹنے کا عمل انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے نو برس قبل گائے اور بکریوں کے سینگ کاٹے جانے کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا تھا، مالک ارمین کیپال کا کہنا تھا کہ سینگ کے ساتھ مویشی فخر سے اپنا سر بلند رکھتے ہیں جبکہ سینگ کاٹے جانے کے بعد وہ افسردہ ہوجاتے ہیں۔

قدرتی حسن کے نظاروں کے علاوہ سوئٹزرلینڈ کی ایک اور شناخت وہاں کی گائیں ہیں جو اپنے دودھ کی بنا پر یورپ بھر میں مشہور ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں بڑی تعداد میں ڈیری فارم موجود ہیں جہاں سے پورے یورپ کو دودھ فراہم کیا جاتا ہے۔

امریکہ داعش کا اتحادی ہے، روسی وزیر خارجہ

یہ بھی پڑھیں

مختلف ملکوں کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت

مختلف ملکوں کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت

شام کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ جولان کی بلندیوں کے بارے میں امریکی صدر کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے