متحدہ پر پابندی لگانے کیلئے وفاق اور سندھ میں اتفاق

متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانونی مشاورت کا عمل بھی شروع کردیا گیا

پاکستان مخالف تقریر پر ایم کیو ایم کے خلاف ہونےو الی کارروائیوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اتفاق رائے ہوگیا ہے اور دونوں حکومتیں ایک پیج پر آگئی ہیں اور ایم کیو ایم پر پابندی کے فیصلے پر بھی دونوں میں اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

قائد ایم کیوایم کی باغیانہ تقریر اور میڈیا ہاوسزپر حملوں کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار تین روز قبل کراچی پہنچے تھے،چوہدری نثار نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ون آن ملاقات کی تھی تاہم اس ملاقات کی حتمی کہانی آج سامنے آئی ہے جس میں یہ اتفاق رائے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق آوزایں بلند ہورہی ہیں کہ ایم کیو ایم پر پابندی لگائی جائے تاہم ن لیگ کا موقف ہے کہ یہ ایک طویل عمل ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا تاہم اس موضوع پر دونوں میں تبادلہ خیال ہوچکا ہے کہ ایم کیو ایم پر پابندی کے لیے قانون کا سہارا لیا جائے گا، ایک وفاقی نمائندے نے تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے قانونی مشاورت کی جارہی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی کی کارروائیوں پر مکمل تعاون کا یقین دلایاہے پاکستان مخالف تقاریر کرنے اور کراچی کاامن خراب کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی، سندھ حکومت وفاق کے ساتھ ہے،اگر ضرورت پڑی تو دوسری جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائےگا۔

ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے بعد گرفتار کیے گئے فاروق ستار اور دیگر ایم کیوایم رہنماؤں کو رہا کرنا سیاسی فیصلہ تھا۔

ایم کیوایم کے یونٹ اور سیکٹر آٖفس سیل کرنے اور گرائے جانے کے بڑے فیصلے پر سندھ حکومت اور وفاقی میں پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا۔
ایم کیوایم پر پابندی لگانے کے حوالے سے وفاقی حکومت کی قانونی مشاورت جاری ہے۔ وفاقی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا سوچ رہی ہے تاہم یہ عمل طویل اور صبر آزما بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

چھوٹے کیسز کی متعلقہ اداروں کو حوالگی کا فیصلہ

چھوٹے کیسز کی متعلقہ اداروں کو حوالگی کا فیصلہ

اسلام آباد: اجلاس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے افسران اور انتظامیہ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے