جج نینی شُشیدہ, روزانہ کی ,بنیاد پر پانچ مقدموں ,کی سماعت, کرتی, ہیں

جج نینی شُشیدہ روزانہ کی بنیاد پر پانچ مقدموں کی سماعت کرتی ہیں

ملائیشیا : اسلامی قانون جسے شریعہ کہا جاتا ہے اسے اکثر سخت سزاؤں اور سخت گیر رویے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن ملائيشیا میں ہائی کورٹ کی پہلی خواتین ججز میں سے ایک کہتی ہیں کہ مسلم اکثریتی ملک میں ان کا کردار انھیں خواتین کو تحفظ دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے

جج نینی شُشیدہ روزانہ کی بنیاد پر پانچ مقدموں کی سماعت کرتی ہیں اور ہفتے بھر میں وہ زیادہ سے زیادہ 80 مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں۔
ملائیشیا میں شریعہ قوانین کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دو شاخہ قانون کے نظام کے تحت ہزاروں مسلمان اپنے اخلاقی اور خاندانی قضیے کے حل کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی قسم کے معاملات کے حل کے لیے وہاں غیر مسلموں کو سکیولر قوانین کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔
ملائیشیا میں اعتدال پسند اسلام کی پیروی عام ہے لیکن قدامت پسندی کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے حال ہی میں ملائیشیا کی دو خواتین کو کوڑے مارے جانے کی سزا پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شریعہ کا اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دونوں خواتین کو ہم جنس پرستی کے تحت سیکس کرنے کی کوشش کے لیے سزا دی گئی تھی۔
جج شُشیدہ مالی مقدمات سے لے کر خلوت تک کے تمام مسائل پر فیصلے دیتی ہیں۔ یہاں خلوت کا مطلب تنہائی میں دو غیر شادی شدہ مسلم نوجوانوں (مرد عورت) کا جنسی طور پر خودسپردگی کے عالم میں پکڑے جانا ہے۔
لیکن جج شُشیدہ کا اختصاص بچوں کی تحویل اور ایک سے زیادہ شادیوں کے معاملے میں ہے۔ اسلام میں ایک مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے اور یہ ملائیشیا میں جائز ہے۔
جج شُشیدہ کہتی ہیں کہ دوسری شادی کی اجازت دینے سے قبل وہ بہت سے عوامل اور عناصر پر غور کری ہیں۔
انھوں نے وضاحت کی کہ ‘ہر معاملہ مختلف اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ آپ اسلامی قانون کو عمومی نہیں کہہ سکتے کہ یہ مردوں کی طرفداری کرتا ہے اور خواتین کے ساتھ ناانصافی۔۔۔ میں اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہتی ہوں۔’
جو کوئی بھی دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اسے شُشیدہ کی عدالت میں بہ نفس نفیس حاضر ہونا ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں: ‘میں سب کی بات سننا چاہتی ہوں نہ کہ صرف مرد کی۔ میں خاتون سے یہ جاننے کے لیے لازمی طور پر بات کرتی ہوں کہ آیا وہ اس انتظام سے متفق ہیں یا نہیں۔ ان کا رضامند ہونا اہم ہے اور اگر ہم اس کے برعکس کوئی علامت پاتے ہیں تو ہم دوسری شادی کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔’
انھوں نے مزید کہا: ‘میں خود ایک عورت ہوں اور میں جانتی ہوں کہ زیادہ تر خواتین ایسا پسند نہیں کرتیں۔ لیکن اسلام میں اس کی اجازت ہے اور ملائیشیا کی ہماری عدالت نے اس پر سخت قوانین بنا رکھے ہیں۔
ایک مرد کو دوسری شادی کی اجازت کے لیے بہت ہی ٹھوس وجوہات کی ضرورت ہے۔
اس کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی پہلی بیوی اور دوسری بیوی دونوں کی اچھی طرح کفالت کر سکتا ہے۔ وہ کسی ایک کی بھی ضرورت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
جج شُشیدہ کہتی ہیں کہ بعض بیویاں دوسری شادی کے خیال کی حامی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر انھوں نے ایک شدید بیمار خاتون کے معاملے کا ذکر کیا جو بچے پیدا کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔ ‘وہ اپنے شوہر کو بہت چاہتی تھی اور اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دے دوں، تو میں نے اجازت دے دی۔
وہ اپنے مذہب کے سخت قوانین کا دفاع کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس میں انصاف ہے لیکن اس کے ناقد اور انسانی حقوق کے علمبردار کا کہنا ہے کہ شریعہ کا اکثر غلط استعمال ہوتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا میں نائب ڈائریکٹر فل رابرٹسن نے بی بی سی کو بتایا: ‘ہمیں شریعہ قانون پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اس میں خواتین اور ہم جنس پرست یا پھر سماجی اور مذہبی اقلیت کے خلاف کوئی امتیاز نہیں ہے۔’
‘لیکن شریعہ قانون کے ساتھ ملائیشیا میں یہ پریشانی ہے کہ اکثر و بیشتر اس کے تحت امتیاز برتا جاتا ہے۔
مذہب کبھی بھی انسانی حقوق کے مساوی بین الاقوامی معیار اور انصاف کی خلاف ورزی کی قابل قبول توجیح نہیں بن سکتا۔’
جج شُشیدہ کہتی ہیں کہ شریعہ میں ہمیشہ مردوں کے حق میں فیصلہ نہیں جاتا ہے۔ ‘ہمارا قانون خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہے۔ وہ ان کی بھلائی اور تحفظ اور روزی روٹی کا خیال کرتا ہے۔’
‘اسلام میں خواتین کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ایک جج کے طور پر ہمیں اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور شریعہ کے استعمال میں قابلیت کو برقرار رکھنا چاہیے۔’
ان کی سب بڑی تشویش ان مسلم مردوں کے متعلق ہے جو شریعہ عدالت کو نظر انداز کرکے بیرون ملک شادی کر لیتے ہیں۔
‘اگر کوئی بیرون ملک شادی کر لیتا ہے تو ان پر ملائیشیا کا قانون عائد نہیں ہوتا۔ بعض خواتین اپنے شوہروں کو بچانے کے لیے یہ جانے بغیر اس کی اجازت دیتی ہیں کہ یہ کس طرح ان کے خلاف کام کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ‘ہمارے شریعہ قانون میں خواتین کے مفادات کا تحفظ ہے اور مردوں کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے کا نظام ہے۔’
سسٹرز ان اسلام جیسی خواتین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ‘عدالتوں میں خواتین کی نمائندگی شدید حد تک کم’ ہے اور مجموعی طور پر ‘نظام میں مردوں کی اجارہ داری ہے۔’
سسٹرز ان اسلام کی ترجمان مجیدہ ہاشمی نے کہا: ‘ملائیشیا میں شریعہ قانونی نظام نہ صرف خواتین کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھتا ہے بلکہ وہ انھیں سماجی بداخلاقیوں کا سبب بتا کر بدنام کرتا ہے۔
ملک کے اسلامی اداروں نے خواتین کو دیے جانے والے انصاف کی یقین دہانی کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔ درحقیقت شریعہ قانون کے تحت خواتین کو جو حالیہ سزا دی گئی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کی آواز کو خطرناک حد تک دبایا جا رہا ہے اور انھیں انصاف نہیں دیا جا رہا ہے۔’
ایسی صورت حال میں جج شُشیدہ کی تقرری خاص طور سے اہم ہے۔
جج شُشیدہ نے کہا: ‘مجھ سے پہلے زیادہ تر ججز مرد ہوتے تھے جو عملی طور پر خواتین کی ضرورت کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے تھے۔’
انھوں نے اعتراف کیا کہ ‘میں نے کبھی جج بننے کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ ایک وکیل کی حیثیت سے میں یہ نہیں جانتی تھی کہ آیا میں اتنا اہم کردار ادا کر سکتی ہوں جس میں پیچیدہ مسائل آتے ہیں۔ ایک عورت کے طور پر مجھ میں شکوک و شبہات اور جھجھک تھی۔’
‘بعض اوقات میں بے چينی محسوس کرتی ہوں۔ ایک عورت کے طور پر مجھے ایسا احساس ہونا چاہیے، اگر میں کہوں کہ میں کچھ محسوس نہیں کرتی ہوں تو میں جھوٹ بول رہی ہوں گی۔ لیکن میں ایک جج ہوں اور مجھے اس بات کی یقین دہانی کرنی ہے کہ میں ہمیشہ واضح اور قطیعت پسند رہوں۔ اس لیے میں اپنے فیصلوں میں اس پر قائم رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں عدالت میں ملنے والے بہترین شواہد کے ساتھ جاتی ہوں۔’

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے