زیر زمین پانی, نکال کر فروخت, کرنے کے ,خلاف از خود نوٹس کی, سماعت

زیر زمین پانی نکال کر فروخت کرنے کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت

اسلام آباد: ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ لوگ کل پیش نہ ہوئے تو ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈلوادیے جائیں گے

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ادارہ برائے تحفظ ماحولیات ( ای پی اے) فرزانہ الطاف شاہ اور ماہر ماحولیات ڈاکٹر محمد احسن صدیقی نے پانی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں بتایا گیا کہ لاہور اور شیخوپورہ سمیت بڑے شہروں میں 11 صنعتیں روزانہ کی بنیاد پر 9 کروڑ لیٹر پانی زمین سے نکال رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنیوں کے پاس پانی کو جانچنے کے لیے سرٹیفائیڈ لیبارٹریز نہیں ہیں نہ ہی ان کے پاس طریقہ موجود ہے جس سے پانی کو جانچا جائے۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ صرف قرشی کمپنی کے پاس سرٹیفائیڈ لیبارٹری ہے جبکہ دیگر کمپنیز کو معلوم ہی نہیں کہ زمین سے نکالے گئے پانی میں کتنے اقسام کی اور کون کونسی معدنیات موجود ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ زمین سے نکالے گئے پانی میں فلورائیڈ اور آرسینک موجود ہے اور ایک ایم بی اے پاس ملازم پلانٹ بھی آپریٹ کرتا اور لیبارٹری کو بھی سنبھالتا ہے۔
جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ کمپنیاں اربوں روپے کما رہی ہیں لیکن ان کے پاس لیبارٹریز تک نہیں ہیں۔
آج سماعت میں کوکا کولا کمپنی کے جنرل مینیجر (جی ایم ) جون ہیلیم سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے رات بھی ملاقات کی ہے اور کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرہے ہیں۔
سماعت میں منرل واٹر کمپنی کے وکیل اعتزاز احسن نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ آپ برطانیہ کے دورے کے بعد آ کر یہ کیس سن لیں۔
جس پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ کیا چاہتے ہیں میں سمجھوتہ کر کے برطانیہ کے دورے پر چلا جاؤں؟ کیا وہ لوگ معافی کے قابل ہیں جنہوں نے اس قوم کو گندا پانی پلایا؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی عدالت کو بتائیں گے کہ غیر معیاری پانی کی فروخت کرنے پر کیا فوجداری کارروائی بنتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

راولپنڈی: مہناز سعید کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں انہیں غیر قانونی سہولیات فراہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے