صحافی اور بلاگر, کے قتل, کے پیچھے موجود, ماسٹر مائنڈز کا, پتہ چل گیا

صحافی اور بلاگر کے قتل کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈز کا پتہ چل گیا

والیٹا: مالٹا کے سنڈے ٹائمز نے رپورٹ میں نامعلوم پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2017 میں کار بم دھماکے میں صحافی اور بلاگر ڈیفنی کاریوآنا گلیزیا کی ہلاکت کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈ کی شناخت ہوگئی

رپورٹ میں اعلیٰ پولیس افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’دو سے زائد افراد‘ کے مالٹی شہریوں کے گروپ کی شناخت ہوئی ہے، جسے خاتون صحافی کے قتل کا حکم دیا گیا۔
اس قتل کے الزام میں 3 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں اور ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں لیکن حکم دینے والے کی شناخت ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
گزشتہ برس 16 اکتوبر کو 53 سالہ کاریوآنا گلیزیا کو قتل کردیا گیا تھا، جنہوں نے پیٹرول اسمگلنگ سے منی لانڈرنگ اور منظم جرائم میں حکومتی اراکین کے ملوث ہونے کے اسکینڈل کو بے نقاب کیا تھا۔
اس کے علاوہ ان کے بلاگ میں مالٹا کے سیاست دانوں پر انتہائی ذاتی حملے کیے گئے تھے۔
دوسری جانب گزشتہ ماہ کاریوآنا گلیزیا کے بیٹے میتھیو نے ’معافی کے نظام‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نظام ان کو تحفظ دینے کے لیے ہے جنہوں نے ان کی والدہ کے قتل کا حکم دیا۔
صحافی کے بیٹا جو سمجھتا ہے کہ قتل کا حکم طاقت ور شخصیات کی جانب سے دیا گیا ان کا کہنا تھا کہ ’اگر صرف ان لوگوں کو جیل بھیج کر سبق دیا گیا جنہوں نے صرف بم کا بٹن دبایا تھا تو یہ ایک بہت خطرناک پیغام ہوگا‘۔
اس قتل کے بعد 4 دسمبر کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں 2 بھائی الفریڈ ڈی جیورجیو اور جیورج ڈی جیورجیو سمیت ونس مسکیٹ شامل تھے، تاہم ان کا کیس اب تک زیر التوا ہے۔
ادھر کاریوآنا گلیزیا کے اہل خانہ کا کہنا تھا پولیس کی طرف سے باضابطہ طور پر انہیں آگاہ نہیں کیا گیا کہ ماسٹرمائنڈز کی شناخت کرلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

برطانوی وزیر اعظم کے بھائی نے بھی وزارت چھوڑ دی

برطانوی وزیر اعظم کے بھائی نے بھی وزارت چھوڑ دی

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی جو جانس نے بریگزٹ کے تنازع میں خاندانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے