خواتین کو حاجی علی درگاہ میں داخلے کی’اجازت

درگاہ کی انتظامیہ کے اصول و ضوابط کے مطابق خواتین کو مزار کی باہر سے ہی زیارت کرنے کی اجازت تھی اور انھیں اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔

اس کے خلاف مسلمان خواتین کے لیے سرگرم ایک تنظیم ’مسلم مہیلا آندولن‘ نے ممبئی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔

اس عرضی میں استدعا کی گئی تھی کہ جس طرح مردوں کو مزار کے اندر جانے کی اجازت ہے اسی طرح خواتین کو بھی اندر جانے کی اجازت دی جائے۔

مفاد عامہ کی اسی درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں خواتین کو بھی درگاہ کے اندر تک جانے کی اجازت دی ہے۔

لیکن ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا۔

ادھر حاجی علی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

چند ماہ قبل حاجی علی درگاہ کی ٹرسٹ کے ترجمان عبدالستار نےبتایا تھا کہ خواتین اگر باہر تک آتی ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن مزار تک خواتین کا جانا ٹھیک نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’مزار پر تو اب بھی خواتین آتی ہیں لیکن انھیں مزار کو چھونے کی اجازت نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ سنہ 2011 میں عورتوں کو مزار کے اندر جانے کی اجازت تھی لیکن بعد میں ٹرسٹ نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

بھارت میں عام طور پر مزاروں اور مندروں کے اندر خواتین کے داخلے پر پابندی عائد ہے جس کے خلاف خواتین کی تنظیموں نے مہم چلا رکھی ہے اور عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

وفاقی حکومت کا اقدام صوبائی خود مختاری پر حملے کے مترادف ہے

وفاقی حکومت کا اقدام صوبائی خود مختاری پر حملے کے مترادف ہے

کراچی: بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت عوامی ردعمل سے پہلے اسپتالوں پر اپنا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے