,ایس پی ,طاہر خان داوڑ, کا, جسد خاکی, پاکستانی حکام, کے ,حوالے

ایس پی طاہر خان داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے

افغانستان نے مقتول سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر خان داوڑ کی لاش طورخم سرحد پر پاکستانی حکام کے حوالے کردی۔

اس سے قبل ریڈیو پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغان حکام نے پاکستانی حکام کو ایس پی کی میت دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ جسد خاکی محسن داوڑ کو دینا چاہتے ہیں۔

ایس پی کا جسد خاکی لینے کے لیے طورخم سرحد پر سرکاری حکام کے ساتھ ساتھ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور ایم این اے محسن داوڑ موجود تھے۔

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم نے میت حوالے کرنے کے لیے تقریباً دو گھنٹے تک افغان حکام کو قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکام کا کہنا تھا کہ وہ میت صرف قبائلی عمائدین کے حوالے کریں گے۔

بعد ازاں محسن داوڑ اور ان کے بھائی سمیت قبائلی عمائدین کی ٹیم نے بارڈر پر پہنچ کر جسد خاکی وصول کیا۔

طاہر خان داوڑ کی میت کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا۔

اس موقع پر طورخم سرحد پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کسی گاڑی یا فرد کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

افغان حکام کا رویہ اذیت ناک تھا، شہریار آفریدی

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ ‘پاکستان نے 80 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو جگہ دی لیکن اس کے باوجود طاہر خان داوڑ کی میت کی حوالگی سے متعلق افغان حکام کا رویہ غیر مناسب تھا اور جو رویہ طورخم پر دیکھنے کو ملا وہ اذیت ناک تھا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘افغان حکام نے طاہر داوڑ کی میت پاکستانی قونصل خانے کو دینے سے انکار کیا اور افغان حکام نے میت حوالگی کے بدلے کچھ مطالبات رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ڈھائی گھنٹے انتظار کے بعد میت حوالے کی گئی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ریاست پاکستان، افغان حکومت سے اس رویے سے متعلق بات کرے گی۔’

افغان حکام نے ایس پی طاہر داوڑ کا سروس کارڈ ملنے کی تصدیق کر دی

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘خیبر پختونخوا حکومت سے طاہر داوڑ سے متعلق رپورٹ طلب کرلی گئی ہے، ریاست پاکستان اپنے ایک ایک سپاہی اور شہری کی ذمہ دار ہے اور ہم ایس پی داوڑ کے قتل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔’

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طاہر خان داوڑ کو رواں برس کے آغاز میں دیہی علاقوں کا ایس پی بنایا گیا تھا اس سے قبل وہ یونیورسٹی ٹاؤن اور فقیر آباد میں بحیثیت ڈی ایس پی اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

خیال رہے کہ وہ 26 اکتوبر کو ہی پشاور سے اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انہیں اسی روز اغوا کرلیا گیا تھا، ان کے اہلِ خانہ نے اسلام آباد پولیس کو بتایا تھا کہ ان کا فون شام پونے 7 بجے سے بند جارہا تھا۔

یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ایس پی اس سے قبل بنوں میں تعیناتی کے دوران 2 خود کش حملوں کا سامنا کرچکے تھے جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کا معاملہ دیکھ رہے ہیں اور کے پی حکومت کو اسلام آباد پولیس کے ساتھ مل کر اس معاملے پر فوری انکوئری کا حکم دے دیا ہے۔

ان کا مذکورہ ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ‘وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو اس معاملے کو فوری دیکھنے کے لیے کہا گیا ہے اور وہ اس کی رپورٹ جلد مجھے پیش کریں گے’۔

یہ بھی پڑھیں

غیر ضروری اقدام سے اربوں ڈالرکے منصوبوں پر عملدرآمد میں الجھاؤ پیدا ہو گا

غیر ضروری اقدام سے اربوں ڈالرکے منصوبوں پر عملدرآمد میں الجھاؤ پیدا ہو گا

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے سی پیک اتھارٹی کے قیام کی حکومتی تجویزکی مخالف کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے