مشہورِ زمانہ فرانسیسی, ملکہ میری انتونیت, کے زیورات ,کی نیلامی

مشہورِ زمانہ فرانسیسی ملکہ میری انتونیت کے زیورات کی نیلامی

فرانس: اس بدنصیب ملکہ کے زیورات پچھلے دو سو سال سے منظرِ عام پر نہیں آئے تھے اور ان میں موتی اور ہیرے جڑے ہار، بالیاں اور دوسرے زیورات شامل ہیں

یہ زیورات اٹلی کا بوربن پارما ہاؤس فروخت کر رہا ہے اور اس کا انعقاد جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہو گا۔
یلامی کا اہتمام مشہور نیلام گھر سدبیز نے کیا ہے اور اس نے انھیں ‘فروخت کے لیے پیش ہونے والے اہم ترین شاہی زیورات’ قرار دیا ہے۔
نیلامی میں شامل ایک موتی اور ہیروں جڑے ہار کی قیمت 20 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
میری انتونیت کا تعلق آسٹریا سے تھا اور انھوں نے فرانس کے بادشاہ لوئی شازدہم سے شادی کی تھی۔
فرانسیسی انقلاب سے قبل ان کی پرتعیش زندگی کے افسانے آج بھی سنائے جاتے ہیں، جب کہ اس زمانے میں غریبوں کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی تھی۔
ان سے ایک فقرہ منسوب ہے: ‘لوگ بھوکے ہیں تو کیک کیوں نہ کھاتے؟’ تاہم اس کے کوئی تاریخی شواہد نہیں ملتے۔
انقلاب کے بعد انھوں نے اپنے زیورات آسٹریا منقل کر دیے، اور خود بھی ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اپنے خاوند اور بچوں سمیت پکڑی گئیں۔
فرانس کی آخری ملکہ کو 1793 میں 37 سال کی عمر میں گلوٹین کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

مشرقی فرانس میں ایک مسجد پر کار سے حملہ

مشرقی فرانس میں ایک مسجد پر کار سے حملہ

فرانس کے مشرقی علاقے کی ایک مسجد پر گاڑی سے حملہ کیا گیا ہے رشاٹوڈے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے