نیب کے 3 افسران اپنی تقریری کے مطلوبہ, میعار, پر پورا نہیں, اترتے
A Pakistani policeman stands guard in front of the Supreme Court building during a hearing in Islamabad on August 8, 2012. Pakistan's top court on Wednesday summoned the new prime minister Raja Pervez Ashraf to appear later this month to face possible contempt charges, the clearest sign yet it could dismiss a second premier in a showdown over corruption cases. AFP PHOTO / Aamir QURESHI

نیب کے 3 افسران اپنی تقریری کے مطلوبہ میعار پر پورا نہیں اترتے

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے نیب میں خلاف ضابطہ تقرریوں پر ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے متعلقہ افسران کی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی

 

خصوصی کمیٹی میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ایک رکن اور نیب کے ڈائریکٹر جنرل شامل تھے۔
کمیٹی نے رپورٹ میں تجویز دی کہ 17 میں سے فرمان اللہ اور فیاض احمد قریشی کو واپس ان کے پرانے محکمے میں بھیج دیا جائے۔
فرمان اللہ اس وقت نیب خیبرپختونخوا اور فیاض احمد قریشی نیب سکھر کے ڈائریکٹر ہیں۔
خصوصی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 گریڈ کے افسر فرمان اللہ نیب میں اپنے عہدے کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے کیونکہ انہیں ان کےپرانے محکمے نے جو تجربے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے وہ اس ملازمت کے میعار پر پورا نہیں اترتا۔
کمیٹی کی جانب سے تجویز دی گئی کہ اگر قانونی طور پر ممکن ہوسکتا ہے تو انہیں ان کے پرانے محکمے میں واپس بھیج دیا جائے۔
نیب سے قبل فرمان اللہ خیبرپختونخوا کے فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ ڈپارٹمنٹ اور فرنٹیئر ہائی وے اتھارٹی کا حصہ تھے۔
خصوصی کمیٹی نے کہا کہ انہیں جو ایکسپریئنس سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تحقیقات، انکوائری، ریسرچ اور قانونی معاملات کا تجربہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

جیل میں صرف جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں

راولپنڈی: مہناز سعید کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں انہیں غیر قانونی سہولیات فراہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے