شیطان کو کنکریاں مارنے کے اوقات میں کمی

منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ سے دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 769 تھی۔جمرات پر کنکریاں مارنے کے اوقات کو کم کر کے 12 گھنٹے کر دیا جائے گا۔

شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل حسب معمول منیٰ میں 11 ستمبر کو شروع ہو کر تین ن تک جاری رہے گا۔ منٰی کا مقام مکہ کی مسجد الحرام سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

حج سے متعلق وزارت کا کہنا ہے کہ رواں برس پہلے دن صبح چھ بجے سے لے کر ساڑھے دس بجے تک کنکریاں مارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دوسرے دن دوپہر دو بجے سے شام چھ بجے تک جبکہ تیسرے اور آخری دن صبح ساڑھے دس بجے سے لے کر دو بجے تک کنکریاں مارنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سعودی گیزٹ نے وزرات کے نائب سیکریٹری حسین الشریف کے حوالےسے بتایا کہ ’اس عمل سے حاجیوں کو

کنکریاں مارنے میں آسانی ہوگی اور رش کم ہونے کی وجہ سے بھگدڑ کا خطرہ نہیں رہے گا۔‘

انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ نئے اوقاتِ کار سے رش کس طرح کم ہو پائے گا۔

گذشتہ برس کی بھگدڑ حج کی تاریخ کا بدترین سانحہ تھا۔

بھگدڑ کا واقعہ جمرات کے مقام پر پانچ منزلہ پل کے باہر پیش آیا۔

یہ ایک کلو میٹر طویل ہے اور یہاں پر ہر گھنٹے میں تین لاکھ حاجی مناسکِ حج ادا کرتے ہیں۔

حاجیوں نے انتہائی گرم درجۂ حرارت میں پولیس کی جانب سے سڑکوں کے بند کیے جانے اور ناقض انتظامیہ کو بھگدڑ کی وجہ قرار دیا تھا۔

شہزادہ محمد بن نائف اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا تاہم اس حوالے سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔تاہم حکام نے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا جن مںی کنکریاں مارنے کے اوقات میں تبدیلی شامل تھی۔

 

یہ بھی پڑھیں

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس کا کیمیائی ہتھیاروں کی نابودی کے لیے لازمی اقدامات پر زور

روس نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی معاہدے کے رکن ملکوں کے درمیان تعمیری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے