ایران مخالف پابندیوں میں امریکی پسپائی کا سلسلہ

ایران مخالف پابندیوں میں امریکی پسپائی کا سلسلہ

ایران کے خلاف پابندیوں کے دوسرے مرحلے میں امریکہ کی پسپائی کا سلسلہ جاری ہے۔

حکومت امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیوں میں ایک اور پسپائی کرتے ہوئے چابہار بندرگاہ کی توسیع کے منصوبے اور ایران سے عراق کے لئے بجلی اور گیس کی سپلائی کو پابندیوں سے مستثنی کر دیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیؤ نے کہا ہے کہ ایران کی چابہار بندرگاہ کی توسیع کا منصوبہ کہ جس میں اس بندرگاہ سے افغانستان تک ریلوے لائن کا قیام اور اس ملک کے لئے پٹرولیم اور غیر پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات شامل ہے، ایران کے خلاف نئی پابندیوں سے مستثنی ہے۔

ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد چابہار بندرگاہ کے توسیعی منصوبے کے سمجھوتے پر ایران، ہندوستان اور افغانستان نے دو ہزار سولہ میں دستخط کئے تھے۔

دوسری جانب حکومت امریکہ کے ایران ایکشن ‍گروپ کے سربراہ برائن ہک نے کہا ہے کہ عراق کو ایران سے بجلی اور گیس درآمد کرنے کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

اس سے قبل امریکہ کی جانب سے ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے حوالے سے عائد کی جانے والی پابندیوں سے آٹھ ممالک کو مستثنی قرار دیا جا چکا ہے۔ اور اب عراق کو ایران سے بجلی اور گیس حاصل کرنے کی چھوٹ دےدی گئی ہے۔

حکومت امریکہ کے ایران ایکشن گروپ کے سربراہ برائن ہک نے کہا ہے کہ عراق کو ایران کے خلاف عائد کی جانے والی نئی پابندیوں سے مستثنی کر دیا گیا ہے اور وہ ایران سے بجلی اور ایندھن درآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔

عراق، ایران سے بجلی اور قدرتی گیس درآمد کرتا ہے اور دونوں شعبوں میں وہ ایران سے وابستہ ہے اور عراق کے ایک اعلی عہدیدار کے اعلان کے مطابق ایران سے بجلی اور قدرتی گیس کی درآمدات کی رقم عراقی کرنسی یعنی دینار میں ادا کی جائے گی۔

اس سے قبل عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کے خلاف ہے اور وہ ان پابندیوں پر عمل نہیں کرے گا۔

وسط مدتی انتخابات: امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس، سینیٹ میں ری پبلکن

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے