ایران پر لگائی, جانے والی ,پابندی کا مقصد, عالمی توازن, خراب ,کرنا ہے

ایران پر لگائی جانے والی پابندی کا مقصد عالمی توازن خراب کرنا ہے

انقرہ: صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندی مناسب نہیں ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تہران پر عائد اقتصادی پابندیاں عالمی قوانین کے مقابلے میں توازن کو خراب کی سازش ہیں۔
امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ عالمی قوانین اور سفارتکاری کے خلاف ہے، اور ہم اس سامراجی دنیا میں نہیں جینا چاہتے‘۔
امریکا نے 2 نومبر کو اسلام جمہوریہ ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں، جس کا مقصد تہران کے بیکنگ سیکٹر کو تنہا کرنا اور اس کی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا۔
تاہم انقرہ کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ وہ ان 8 ممالک میں شامل ہے جن پر ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ترک صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی کے وزیرِ خارجہ مولود جاویش اوغلو نے بیان دیا تھا کہ ایران کو تہنا کرنا ’خطرناک‘ ثابت ہوسکتا ہے۔
جب ہم امریکا سے ایران پر عائد پابندیوں کی سے استثنیٰ مانگ رہے تھے ٹھیک اسی وقت انہیں یہ باور کروایا تھا کہ ایران کو دیوار سے لگانا درست فیصلہ نہیں ہے۔
ترک وزیرِخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی لوگوں کو سزا دینا ٹھیک نہیں جبکہ ایران کو دنیا سے الگ کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
مولود جاویش اوغلو نے کہا کہ ترکی پابندیوں کے خلاف ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ پابندیوں سے متعلقہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال رہے کہ پابندیوں کے بجائے بات چیت راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، کیونکہ تعلقات بڑھانا اور بات چیت کرنا بہت فائدہ مند امر ہے‘

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے