صدر ڈونلڈ ٹرمپ, کی, رپبلکن پارٹی, ایوان بالا میں, اپنی اکثریت برقرار

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی ایوان بالا میں اپنی اکثریت برقرار

امریکہ:صدارتی انتخاب 2020 میں ہونے ہیں لیکن ان وسط مدتی انتخابات کو ان کی صدارت کے دو سال پر ایک ’ریفرنڈم‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

ڈیموکریٹ پارٹی ایوان نمائندگان وہ 23 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گی جس کی انھیں ایوان زیریں میں برتری حاصل کرنے کے لیے ضرورت ہے۔
اس جیت کی مدد سے ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کروا سکتے ہیں۔
امریکہ میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 سیٹوں پر انتخابات تھے اور ان میں خواتین امیدواروں نے خاص طور پر بہت عمدہ کارکردگی دکھائی۔ کئی ماہرین نے ان انتخابات کو خواتین کا سال قرار دیا۔
نیو یارک کی 29 سالہ الیگزانڈرا اوکاسیو کورٹز امریکہ کے ایوان نمائندگان میں سیٹ جیتنے والی سب سے کم عمر خاتون بن گئیں۔
س کے علاوہ ڈیمو کریٹس کی جانب سے امیدوار الہان عمر منی سوٹا سے اور راشدہ طلیب مشی گن سے کانگریس میں منتخب ہونے والی پہلی مسلم خواتین بن سکتی ہیں۔
سینیٹ انتخابات میں اب تک کیا ہوا ہے؟
کانگریس کے ایوان بالا میں صدر ٹرمپ کی پارٹی کی اکثریت قائم رہنے کی توقع ہے جہاں ان کو اس وقت 51-49 سے برتری حاصل ہے۔
انتخابات میں اہم لمحہ اس وقت آیا جب انڈیانا میں ری پبلیکن پارٹی کے مائیک براؤن نے وہاں کے ڈیمو کریٹ جو ڈونیلی کو شکست دے دی۔
ٹیکساس میں موجودہ گورنر ٹیڈ کروز اب تک نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کے ابھرتے ہوئے رہنما بیٹو او رورکے کو شکست دے دیں گے۔
ادھر ڈیموکریٹس کی جانب سے سینیٹر جو مانچن اور ببو مینیڈیز نے اپنی اپنی ریاستوں میں سخت مقابلے کے بعد جیت حاصل کر لی۔
وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی 435 نشتوں، سینٹ کی ایک تہائی نشتوں کے علاوہ کئی گورنروں اور ریاستی قانون ساز اداروں کی نشتوں پر انتخابات ہوئے ہیں۔
مریکی ایوان نمائندگان اور سینٹ میں ریپبلکن پارٹی کو برتری حاصل ہے۔ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو ایک ووٹ سے برتری حاصل ہے اور اگر ڈیموکریٹ پارٹی نے پہلے سے دو نشتیں بھی زیادہ حاصل کر لیں تو سینٹ میں ان کی برتری قائم ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنی طاقت کو بچانے کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کے لیے سرتوڑ الیکشن مہم چلائی ہے اور ایک دن میں کئی کئی ریاستوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔ انھوں نے آخری روز تین مختلف ریاستوں میں تین ریلیوں سے خطاب کیا۔ صدر ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پچھلے دو برسوں میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ سب داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔
سابق صدر براک اوباما ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدواروں کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ انھوں نے ایک ریلی سے ِخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں امریکہ کا کردار داؤ پر لگا ہوا ہے۔
ان انتخابات میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435، جبکہ سینیٹ کی ایک سو میں سے 35 نشستوں کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ان دونوں ایوانوں کو ملا کر کانگریس بنتی ہے۔ اس کے علاوہ ان وسط مدتی انتخابات میں امریکہ کی 50 میں سے 36 ریاستوں کے گورنروں کے انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔
اگر ان انتخابات کے نتیجے میں ڈیموکریٹک پارٹی ایک یا دونوں ایوانوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے تو وہ نہ صرف صدر ٹرمپ کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے بلکہ صدر کے منصوبوں کو پلٹا بھی سکتی ہے۔
انتخابات کے جائزوں پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کی 23 نشستوں پر کامیاب ہو سکتے ہیں، جس سے یہ ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول میں آ جائے گا اور اس بات کا امکان بھی ہے کہ ڈیموکریٹس تقریباً 15 مزید نشستیں جیتنے میں بھی کامیاب ہو جائے۔
تاہم، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو جتنی نشستوں پر کامیابی مل سکتی ہے اس کے بعد بھی ان کی کل نشستیں سینیٹ میں برتری حاصل کرنے سے دو کم ہی رہیں گی۔
جب پیر کو صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر ان کی مخالف جماعت ایونِ زیریں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ کیا کریں گے، توصدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو حقیقت سے دور نہیں۔
صدر کے بقول اگر ایسا ہوتا ہے تو ‘ہمیں اپنا کام ذرا مخلتف انداز میں کرنا پڑے گا’۔
صدور ہمیشہ توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تھیوڈور روزویلٹ وائٹ ہاؤس کو ‘دھونس کا منبر’ کہتے تھے جہاں سب نظریں ان پر ہوتی تھیں اور وہ اپنا ایجنڈہ آگے بڑھا سکتے تھے۔
لیکن ڈانلڈ ٹرمپ نے اشتعال انگیز باتیں کرنے کے لیے ٹویٹر کی شکل میں اپنے لیے نیا منبر اپنایا ہے جہاں پچپن ملین لوگ انہیں فالو کرتے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ میں کام صدر ٹرمپ کی کسی بات کا رد عمل ہے۔ ان کو فالو کرنے والے خوش ہوتے ہیں اور مخالفین پریشان اور امیدوار بحث کا حصہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے انتخابات کو دلچسپ کر دیا ہے۔
اوہایو، انڈیانا اور میزوری میں اپنے اختتامی انتخابی ریلیوں میں صدر ٹرمپ نے اپنی مہم کے اہم نعرے دہراتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹ معیشت کو تباہ کر دیں گے اور مزید غیر قانونی تارکین وطن کی امریکہ آمد کی وجہ بنیں گے۔
دریں اثناء ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں نے براہ راست صدر کو مخاطب کرنے کی بجائے ہیلتھ کیئر اور اقتصادی عدم مساوات کو موضوع بنایا۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے