ہمارا بھائی کس حال, میں ہے یہ بات, کوئی دردمند انسان ہی, سمجھ, سکتا ہے

ہمارا بھائی کس حال میں ہے یہ بات کوئی دردمند انسان ہی سمجھ سکتا ہے

سیما اور زرینہ بلوچ، چھ سو کلومیٹر دور آواران سے اس امید کے ساتھ کوئٹہ پہنچی ہیں کہ ان کی بات سنی جائے گی

جو بات وہ میڈیا اور اس کے توسط سے متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے آئی ہیں وہ ایک طالب علم رہنما شبیر بلوچ کی بازیابی کی ہے۔
سیما اور زرینہ نے ایک چھوٹے سے بچے کے ہمراہ کوئٹہ میں جمعے کے روز سے ایک ہفتے کے لیے علامتی بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔
سیما شبیر بلوچ کی بہن جبکہ زرینہ ان کی بیوی ہیں۔
انھوں نے یہ بھوک ہڑتال کوئٹہ پریس کلب کے باہر بلوچستان سے لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ میں شروع کی ہے۔
شبیر بلوچ کی بہن نے بتایا کہ شبیر اور ان کی بیوی رشتہ داروں سے ملنے کے لیے ضلع کیچ گئے تھے۔ چار اکتوبر 2016 کو سکیورٹی فورسز نے ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ میں آپریشن کیا جس کے دوران شبیر کو حراست لیا گیا۔
اپنی بات پہنچانے کے لیے وہ یہ بھوک ہڑتال آواران میں بھی کر سکتی تھیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’وہاں ہماری بات سننے والا کوئی نہیں، ہم کوئٹہ اس لیے آئے کہ کوئی ہماری فریاد سن لے۔
سیما نے بتایا کہ ’دو سال سے یہ معلوم نہیں کہ ہمارا بھائی کس حال میں ہے۔ یہ بات کوئی دردمند انسان ہی سمجھ سکتا ہے۔ یہ سوچ کر ہم اور ہمارے خاندان کے لوگ ہر روز مرتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ بھائی کا مقدمہ درج کرانے کے لیے ضلع کیچ کے متعلقہ حکام کے پاس گئے لیکن وہاں کے تحصیلدار نے سیکورٹی فورسز کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکام نے بتایا کہ اگر وہ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے تو وہ یہ مقدمہ کر لیں گے لیکن سکیورٹی فورسز کے خلاف یہ مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔
شبیر بلوچ کی بیوی زرینہ بلوچ کا کہنا تھا کہ انھوں نے متعلقہ تحصیلدار کو بتایا کہ نامعلوم افراد کے خلاف ہم مقدمہ اس وقت درج کراتے جب ہمیں معلوم نہ ہوتا کہ انھیں کس نے اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘تحصیلدار نے پوچھا گواہ کون ہے تو میں نے بتایا کہ گواہ میں ہوں۔ میری آنکھوں کے سامنے ان کو حراست میں لیا گیا۔’
شبیر بلوچ کے رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ شبیر بلوچ کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ اور دیگر اداروں کے پاس گئے لیکن انھیں انصاف نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ’ہمارے بھائی کے خلاف کوئی الزام ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے، اگر ان کے خلاف کوئی الزام نہیں تو ان کو چھوڑ دیا جائے۔‘
بلوچ ہیومن راٹس آرگنائزیشن کی چیئر پرسن بی بی گل بلوچ بھی بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہائیکورٹ کے علاوہ انہوں نے دیگر لاپتہ افراد کی طرح شبیر بلوچ کی بازیابی کے لیے حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی کمیشن سے رابطہ بھی کیا۔
انطوں نے بتایا کہ شبیر بلوچ کے رشتہ داروں کا الزام ہے کہ ان کو فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا لیکن کمیشن کے سامنے ایف سی حکام نے اس سے انکار کیا۔
بی بی گل بلوچ کے مطابق حکومتی کمیشن نے شبیر بلوچ کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرانے کے لیے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کو ہدایت کی تھی، لیکن تمام کوششوں کے باوجود ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ طاس معاہدہ ختم, کرنے کی, دھمکی دی ,جو سنگین, غلطی ہوگی

سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی جو سنگین غلطی ہوگی

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کوپلوامہ حملے کے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے