انسانی بحران, سے نمٹنے, کے, لیے لاپرواہی, کا وقت نہیں

انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے لاپرواہی کا وقت نہیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقین سے یمن میں جاری کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن میں ‘شدید قحط کا سامنا ہوسکتا ہے جس کا تجربہ ہمیں دہائیوں سے نہیں ہوا ہوگا

اقوام متحدہ کے سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے لاپرواہی کا وقت نہیں اور امن کی خاطر تعمیری کارروائیوں کی رفتار کو مضبوط کرنا ضروری ہے’۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ مارک لووکوک نے گزشتہ ہفتے ہی خبردار کیا تھا کہ ‘یمن میں شدید قحط کے واضح خطرات موجود ہیں جس سے ملک کی آدھی آبادی ایک کروڑ 40 افرد متاثر ہوسکتے ہیں’۔
یمن میں 2014 میں حوثی باغیوں کی جانب سے عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو گرانے کے بعد بحران نے جنم لیا تھا اور سعودی سربراہی میں حکومتی اتحادی 2015 سے ان کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ مخالف فریقین کو بحرانی کیفیت کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنے کی خاطر زیادہ سے زیادہ ممالک شریک ہیں
انہوں نے اتحادی فورسز اور حوثی باغیوں پر زور دیا کہ وہ رواں ماہ کے اواخر میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں ‘اختلافات اور رکاوٹوں کو مذاکرات کے ذریعے ختم کردیں’۔
انتونیو گوتریس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘گنجان آباد علاقوں سمیت ہر جگہ تشدد کو فوری طور پر روکنا ہوگا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میرا مقصد فریقین کو تنازع کو سمجھنے کے لیے اپیل کرنا ہے کہ جو موقع مل رہا ہے اس کو حاصل کریں اور اگر ایسا نہ ہوا تو انسانی صورت حال مزید گھمبیر ہوگی اور اگلے برس دنیا کو یمن میں ایک قحط سےنمٹنا ہوگا’۔’

یہ بھی پڑھیں

بوکھلاہٹ کے شکار بھارتی تاجروں نے پاکستان سے تمام آرڈر منسوخ کر دیے

بوکھلاہٹ کے شکار بھارتی تاجروں نے پاکستان سے تمام آرڈر منسوخ کر دیے

نئی دہلی: پلوامہ حملے کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے