توہینِ مذہب کے قوانین, برطانوی راج ,کے, زمانے ,میں 1860 میں, بنائے گئے, تھے

توہینِ مذہب کے قوانین برطانوی راج کے زمانے میں 1860 میں بنائے گئے تھے

توہینِ مذہب کے قوانین پہلی مرتبہ برصغیر میں برطانوی راج کے زمانے میں 1860 میں بنائے گئے تھے اور پھر 1927 میں ان میں اضافہ کیا گیا

1980 اور 1986 کے درمیان جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے دور میں متعدد شقیں ڈالی گئیں۔ جنرل ضیا ان قوانین کو اسلام سے مزید مطابقت دینا چاہتے تھے اور احمدیہ برادری (جسے 1973 میں غیر مسلم قرار دیا جا چکا تھا) کو ملک کی مسلمان اکثریت سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے۔
برطانوی راج نے جو قوانین بنائے ان میں کسی مذہبی اجتماع میں خلل ڈالنا، کسی قبرستان میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، کسی کے مذہبی عقیدے کی توہین کرنا، یا سوچ سمجھ کر کسی کی عبادت گاہ یا عبادت کی کسی چیز کی توہین کرنا جرم قرار پائے تھے۔ ان قوانین میں زیادہ سے زیادہ سزا دس سال قید اور جرمانہ تھی۔
1980 کی دہائی میں توہینِ مذہب کے قوانین میں اضافہ کیا گیا۔ 1980 میں اسلامی شخصیات کے خلاف توہین آمیز بیانات کو بھی جرم قرار دے دیا گیا تھا جس میں تین سال قید کی سزا مقرر کی گئی۔
1982 میں ایک اور شق شامل کی گئی جس میں جان بوجھ کر قرآن کی بےحرمتی کی سزا پھانسی رکھ دی گئی۔ 1986 میں پیغمبرِ اسلام کی توہین کی سزا بھی موت یا عمر قید رکھ دی گئی۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کئی سالوں سے توہینِ مذہب کے کیسز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کیسز میں زیادہ تر مسلمانوں کو ہی پکڑا جاتا ہے۔
نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس کے مطابق 1987 سے لے کر اب تک 633 مسلمانوں، 494 احمدیوں، 187 عیسائیوں، اور 21 ہندؤوں کے خلاف ان قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر توہینِ قرآن کے مقدمات ہیں اور توہینِ رسالت کے مقدمات قدرے کم ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کیسز میں اقلیتی برادری کا تناسب بہت زیادہ ہے اور اکثر ان کا استعمال ذاتی دشمنیوں اور لڑائیوں کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ان کا مذہب سے کم ہی تعلق ہوتا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ توہینِ مذہب کا صرف الزام لگنا، یا ملزم کا دفاع کرنا ہی کسی کے ہدف بن جانے کے لیے کافی ہے۔
پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ توہینِ مذہب کے مرتکب لوگوں کو سزا ملنی چاہیے۔ تاہم دینی تعلیمات کیا ہیں اور آج کے قوانین ان کو کس طرح لاگو کرتے ہیں، اس حوالے سے زیادہ سمجھ بوجھ نہیں پائی جاتی۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قوانین جس شکل میں جنرل ضیا کے دور میں بنائے گئے وہ براہِ راست قرآن میں سے لیے گئے ہیں اور چنانچہ انسانوں کے بنائے ہوئے نہیں ہیں۔
جب اس قانون کے معروف ناقد سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو انھی کے محافظ نے قتل کر دیا تو پاکستان میں لوگوں کی رائے منقسم تھی کہ ان کے قاتل کو ہیرو مانا جائے یا قاتل۔
سلمان تاثیر کے قتل کے ایک ماہ بعد مذہبی اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی جنھوں نے اس قانون کی مخالفت کی تھی، کو بھی اسلام آباد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
جب 2016 میں سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سزائے موت دی گئی تو ان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔
متعدد سیکیولر جماعتوں کے ایجنڈے پر توہینِ مذہب کے قوانین میں اصلاحات کرنا رہا ہے۔ تاہم اس میں زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی جس کی بنیادی وجہ معاملے کی حساسیت ہے۔
2010 میں برسرِاقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اس حوالے سے ایک بل متعارف کروایا۔ اس بل میں مذہبی جرائم کے حوالے سے پروسیجر میں تبدیلی کے لیے کہا گیا تھا تاکہ یہ کیسز اعلیٰ پولیس افسران کے پاس جائیں اور اعلیٰ عدالتیں ہی ان کیسز کو سنیں۔
مگر فروری 2011 میں مذہبی جماعتوں کے زبردست دباؤ کے بعد اس بل کو واپس لے لیا گیا۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ان قوانین کی حفاظت کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یومِ وفات حضرت فاطمہ زھرا سلام اللّہ علیھا

شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللّہ علیھا کا یوم وفات دختر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے