سپریم کورٹ کے, تین رکنی, بینچ نے جعلی, بینک اکاؤنٹس کیس, کی سماعت

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت

اسلام آباد:چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے مقدمے کی آخری سماعت کراچی میں کی تھی، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو اب ریکارڈ ملنا شروع ہوگیا ہے اس لیے جے آئی ٹی کی رپورٹ کا انتظار کر لیتے ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نے عدالت کو بتایا کہ 14 ارب روپے کی بے قاعدگیوں کے حوالے سے نیشنل بینک نے درخواست دائر کی تھی، اومنی گروپ کے 11 ارب 29 کروڑ کے اثاثے بینکوں کے پاس رہے ہیں جنہیں نیشنل بینک اور سندھ بینک کے قرضوں کا سوچنا چاہیے تھا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نمر مجید عدالت میں آئے ہیں؟ جس پر نمر مجید کے وکیل نے کہا کہ نمر مجید بینکوں اور نیشنل بینک کے درمیان اسٹاک میں بے قاعدگیوں سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے جس کو عدالت نے منظور کر لیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائےگا جبکہ اومنی گروپ کی وجہ سے بینکوں کا نقصان ہو رہا ہے جو انہیں پورا کرنا پڑے گا۔
درخواست گزار سید فضل قیوم بادشاہ کے وکیل نے کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فریق بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میرے موکل بزنس مین ہیں اور 8 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے، لہٰذا عدالت ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو کر گزارشات جمع کروانے کی ہدایت دے۔

یہ بھی پڑھیں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

اسلام آباد: چار سال سے لاپتہ آئی ٹی انجئنیر ساجد محمود کی بازیابی کے لیے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے