ہیکنگ مثبت کاموں کے لیے کرتا ہوں‘

حال ہی میں رافع بلوچ کو گوگل اور فائر فوکس براؤزر میں سکیورٹی سسٹم میں خامی کی نشاندہی کرنے پر دونوں کمپنیوں کی جانب سے پانچ ہزار ڈالر انعامی رقم سے نوازا گیا۔

رافع بلوچ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنھوں نے اس قسم کی سکیورٹی خامیوں تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس سے پہلے 2012 میں انھوں نے ویب سائٹ پے پیل کو اس کی سکیورٹی کی خامیاں بتا کر دس ہزار ڈالر کا انعام حاصل کیا تھا۔

کتنا مشکل ہوتا ہے کہ ایسی ہیکنگ نہ کی جائے جس سے کسی کو نقصان پہنچے؟

اس سلسلے میں رافع بلوچ کہتے ہیں کہ ’اس کا تعلق آپ کی دیانت اور اقدار سے ہے۔ میرے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ میں ایسی ہیکنگ کروں جس کے دنیا میں مثبت اثرات ہوں۔ میں کسی کے سسٹم میں اس لیے نہیں جاتا کہ اسے نقصان پہنچا سکوں بلکہ اس کا مقصد مالک کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح سسٹم کی سکیورٹی کو بہتر بنا سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہی ’وائٹ ہیٹ‘ ہیکر اور ’بلیک ہیٹ‘ ہیکر میں فرق ہوتا ہے۔ کسی بھی طرح کے ذاتی فائدے کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچانا ہیکنگ کہلاتی ہے جبکہ جو میں کر رہا ہوں اسے ایتھیکل ہیکنگ کہا جاتا ہے۔‘

رافع بلوچ نے بتایا کہ ’جب میں نے اپنے والدین کو بتایا کہ میں ہیکر بننا چاہتا ہوں تو وہ بالکل خوش نہیں تھے۔ ایک تو انھیں معلوم نہیں تھا اور دوسرا انھوں نے کہا تم ڈاکٹر بنوں یا انجینیئر یا سی ایس ایس کی طرف جاؤ۔ یہ ہیکنگ کیسا شبعہ ہے؟ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب مجھے ترقی ملی تو انھیں سمجھ آیا کہ میں ٹھیک کام کر رہا ہوں۔‘

گذشتہ ماہ ہی پاکستان کے 14 سالہ طالب علم محمد شہزاد کو گوگل کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انھوں نے گوگل کو لاحق سکیورٹی خطرات سے کمپنی کو آگاہ کیا جس کے اعزاز میں ان کا نام ہال آف فیم میں

شامل ہوا۔ پاکستان میں ایتھیکل ہیکنگ کرنے والوں کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم رافع بلوچ کے مطابق: ’پاکستان میں حالات خراب ہونے کے باوجود ایسا ٹیلنٹ پیدا ہو رہا ہے جو ایتھیکل ہیکنگ کی دنیا میں عالمی پذیرائی حاصل کر رہا ہے مگر حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پاکستان میں مواقع موجود نہیں اور ایسے میں بیشتر ہیکر بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’حکومت کو چاہیے کہ ایسے ٹیلنٹ کو ملک میں رکھنے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی خدمت کر سکیں۔‘

رافع بلوچ کا کہنا ہے کہ نئے سائبر کرائم بل میں ابہام پایا جاتا ہے اور اگر یہ قانون بن جاتا ہے تو اس سے ان کا کام متاثر ہو گا۔

انھوں نے کہا: ’حساس معلومات تک رسائی میں تین سال تک کی سزا مقرر کی گئی ہے جس کے تحت میرے جیسے لوگ بھی ممکنہ طور پر مجرم بن جائیں گے کیونکہ بل میں یہ واضح نہیں ہے کہ کس قسم کی معلومات حساس یا قابل سزا ہوں گی۔ جو معلومات حکومت کے لیے حساس ہو سکتی ہیں وہ ہمارے لیے نہیں تو اس کی تشریح کون کرے گا تاکہ ایتھیکل ہیکنگ کا فروغ متاثر نہ ہو۔‘

خواتین کے خلاف سوشل میڈیا پر جرائم سے متعلق رافع کا کہنا تھا کہ’ فیس بک یا کسی بھی اکاؤنٹ کو مکمل طور پر ہیکنگ سے تو نہیں بچایا جا سکتا مگر انٹرنیٹ کے استعمال کی آگاہی اگر عوام کو دی جائے تو ان جرائم میں کسی حد تک کمی آ سکتی ہیں مگر پاکستان میں حکومت اس سلسلے میں کوئی مہم نہیں چلا رہی۔‘

انھوں نے کہا سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو ایک بات معلوم ہونی چاہیے کہ ایک مرتبہ جو کوئی تصویر یا معلومات انٹرنیٹ پر چلی جاتی ہے تو وہ بڑے عرصے تک ختم نہیں سکتی چاہے آپ اپنے فون یا انٹرٹیٹ سے اسے مٹا ہی کیوں نہ کر دیں۔ اس لیے صارفین کو چاہیے کہ وہ انٹرٹیٹ پر معلومات دینے سے پہلے کئی مرتبہ سوچیں۔‘

یہ بھی پڑھیں

کہیں آپ کے بچے بھی موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال تو نہیں کرتے؟

کہیں آپ کے بچے بھی موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال تو نہیں کرتے؟

ماہرین نے 2 سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین کو متنبہ کیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے