اسرائیلی فوج, کے آگے ,سینہ سپر, فلسطینی نوجوان

اسرائیلی فوج کے آگے سینہ سپر فلسطینی نوجوان

بیس سالہ فلسطینی نوجوان ایدابو امرو کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی تصویر وائرل دیکھ کر میں حیران رہ گیا

ایدابو امرو نے عرب براڈ کاسٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں ہر ہفتے شرکت کرتے ہیں، میں تو جانتا تک نہیں تھا کہ میرے آس پاس کوئی فوٹوگرافر بھی ہے، میں مظاہروں میں کبھی تصویر کے لیے نہیں جاتا۔
فلسطینی نوجوان نے مزید کہا کہ میں نے جس جھنڈے کو تھاما ہوا ہے وہ دوسرے احتجاجی مظاہروں میں بھی میرے ہاتھ میں ہوتا ہے، میرے دوست میرا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ جھنڈا تھامے بغیر ایک ہاتھ سے پتھر پھینکنا بہت آسان ہے۔
ایک ہاتھ میں فلسطینی جھنڈا تھامے ہوئے اور دوسرے میں اسرائیلی فوج کو مارنے کے لیے پتھر اٹھائے ہوئے فلسطینی کی تصویر سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹوئٹر پر جاری ہوتے ہی بہت تیزی وائرل ہونا شروع ہو گئی۔
وئٹر استعمال کرنے والوں نے اس تصویر کا موازنہ فرانسیسی مصور یوگینی ڈی لیک روآئز کی انقلاب فرانس کی عکاسی کرتی مشہور پینٹنگ ‘لبرٹی لیڈنگ دی پیوپل’ سے کرنا شروع کر دیا۔
الجزیرہ کے مطابق ٹوئٹر پر اس تصویر کو 5000 سے زیادہ دفعہ شیئر کیا جا چکا ہے۔
غزہ پٹی میں فلسطینی عوام گزشتہ سات ماہ سے، 70 سال سے بے گھر فلسطینیوں کو واپس اپنے گھر جانے کے حق کے لیے احتجاجی جمعہ تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں اور 30 مارچ سے جاری ان مظاہروں میں اب تک 250 سے زائد فلسطینی شہید اور 30 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بوکھلاہٹ کے شکار بھارتی تاجروں نے پاکستان سے تمام آرڈر منسوخ کر دیے

بوکھلاہٹ کے شکار بھارتی تاجروں نے پاکستان سے تمام آرڈر منسوخ کر دیے

نئی دہلی: پلوامہ حملے کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے