’’آفریدی سےدوستی نےمیراکیریئرتباہ کردیا‘‘

’’عمر اکمل نے چیئرمین بورڈ سے ملاقات کی اور اپنے رویے پر نادم نظر آئے۔ انھیں معاف کر دیا گیا اور اب وہ مستقبل میں سلیکشن کے اہل ہوں گے‘‘

چند روز قبل بورڈ کی جب یہ پریس ریلیز پڑھی تو میں مسکرا دیا اور دل میں سوچا یہ تو ہونا ہی تھا۔ سنا ہے گذشتہ دنوں لندن میں ان کی ایک اعلیٰ شخصیت سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد تمام گناہ معاف ہو گئے اور وہ ’’شریف‘‘ بن گئے، اب کراچی میں چیئرمین شہریارخان نے بھی جب ان کے بارے میں ایسی باتیں کیں تو میں سمجھ گیا کہ افواہیں غلط نہیں ہیں۔ احمد شہزاد کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہے،انھیں بھی شہریارخان نے ’’سمجھانے‘‘ کا کہا ہے۔حال ہی میں مجھے واٹس ایپ پر ایک اخباری خبر ملی جس میں نجم سیٹھی نے اوپنرکو ٹیم سے ڈراپ کرنے کا ملبہ سابق کوچ وقار یونس پر ڈال دیا تھا۔ وہ خود بورڈ کی ایک انتہائی اعلیٰ شخصیت ہیں اگر کوئی زیادتی ہوئی تو روکا کیوں نہیں تھا؟

اب اچانک دونوں پلیئرز کے حق میں بیانات سامنے آنے سے میں سمجھ گیا کہ دوبارہ ٹیم میں ’’بیک ڈور انٹری‘‘ کی تیاری ہو چکی ہے۔ ویسے نجم سیٹھی خود بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ سلیکشن کیلیے سفارشیں آتی ہیں۔اب ذرا پرفارمنس بھی کچھ دیکھ لیں۔ عمر اکمل نے کیریئر کا کیسا شاندار آغاز کیا تھا شاید آپ کو یاد ہو۔دوسرے ہی میچ میں ففٹی اور پھر سنچری لیکن آج سات سال گذرنے کے باوجود وہ کہاں کھڑے ہیں ذرا خود سے یہ سوال تو کریں۔آخری 20 ون ڈے میچز میں20کی ہی اوسط سے 367 رنز بنانے کے بعد وہ کس بنیاد پر یہ بات کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔اتنے مواقع ملنے پر ان کے جتنی دو نصف سنچریاں تو کوئی بھی بنا لیتا۔اسی طرح آخری 25 میچز میں محض 2 ففٹیز کی مدد سے 459 رنز بنا کر وہ کیسے خود کو ہیرو ثابت کر سکتے ہیں۔کیریبیئن پریمیئر لیگ میں بھی انھوں نے ایک ہی اچھی اننگز کھیلی اور ٹرانباگو نائٹ رائیڈز کیلیے 12 میچز میں صرف179 رنز اسکور کیے۔

انضمام الحق صاحب آپ بہت اصولوں کی بات کرتے ہیں ، کیا یہ پرفارمنس کسی کھلاڑی کی ٹیم میں جگہ برقراررکھنے کیلیے کافی ہے؟ اسی طرح احمد شہزاد نے آخری 16 ون ڈے میچز میں 29 کی اوسط سے 478 رنز بنائے۔ اس میں صرف 3 نصف سنچریاں شامل ہیں،آخری 6 میچز میں تو وہ ففٹی سے بھی محروم رہے اور 16 کی معمولی ایوریج سے 100 رنز اسکورکیے۔ شاید اسی وجہ سے گذشتہ برس ورلڈکپ کے بعد وہ ٹیم سے باہر ہو گئے تھے۔ اسی طرح آخری12ٹوئنٹی 20میں انھوں نے 16 کی اوسط سے محض 197 رنز بنائے جس میں صرف ایک بار نصف سنچری کا موقع مل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد وہ گرین شرٹس کا حصہ نہیں رہے۔ کیریبیئن پریمیئر لیگ میں وہ بارباڈوس ٹرائیڈنٹس کی جانب سے ایکشن میں نظر آئے مگرچار میچز میں 49 رنز ہی بنائے۔ کیا بورڈ بتا سکتا ہے کہ انھیں کس بنیاد پر ٹیم میں واپس لایا جائے گا؟ ڈسپلن کی بات کر کے خوامخواہ کا تنازع کھڑا کیا گیا۔ اگر صرف پرفارمنس کی بنیاد پر ہی انھیں ڈراپ کر دیا جاتا تو اس کا بھی واضح جواز موجود تھا۔

درحقیقت احمد شہزاد کو متواتر مواقع دلانے میں شاہد آفریدی کا بڑا کردار ہے۔ انھوں نے اوپنر کو بہت سپورٹ کیا مگر صلہ یہ ملا کہ آج نجی محفلوں میں وہ کہتے پھرتے ہیں کہ ’’آفریدی سے دوستی نے میرا کیریئر تباہ کر دیا‘‘ حالانکہ انھیں اپنے اعدادوشمار پر غور کرنا چاہیے۔اگر آپ پرفارم کریں گے توچاہے جتنے بھی دشمن بن جائیں کوئی آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا یونس خان اس کی واضح مثال ہیں جنھیں الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے بورڈ اور ٹیم کے کئی لوگ پسند نہیں کرتے مگر وہ بدستور ڈٹے ہوئے ہیں۔ بھارتی اسٹار ویرات کوہلی نے 2008میں ون ڈے اور 2011 میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا، آج دیکھیں وہ کہاں موجود ہیں۔ کپتان تک بن گئے۔ اس وقت ان کو دنیا کا بہترین بیٹسمین گردانا جانا ہے اور کیوں نہ ایسا ہو۔ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی دونوں میں ان کی اوسط 50 سے زائد اور ٹیسٹ میں 45 ہے۔27 سال کی عمر میں مجموعی طور پر وہ 37 سنچریاں اور 12 ہزار سے زائد رنز بنا چکے ہیں۔

وہ دودھ کے دھلے نہیں لیکن آپ نے کبھی یہ بھی نہیں سنا ہو گا کہ وہ ممبئی یا دہلی میں مجرا دیکھتے ہوئے نشے میں پکڑے گئے یا کسی اور غیراخلاقی حرکت کے سبب سرزنش کا سامنا کیا۔گوکہ کیریئر کے آغاز میں خاصے غصیلے اور پُرجوش تھے مگراب طبعیت میں ٹھہراؤ آ چکا اور مکمل توجہ صرف کھیل پر ہی دیتے ہیں۔ دوسری جانب عمر اکمل نے 2009میں پاکستان کی جانب سے کھیلنا شروع کیا،تینوں طرز میں مجموعی طور پر 6 ہزار رنز بھی نہیں بنا سکے اور صرف تین سنچریاں ہیں۔ احمد شہزاد نے تو مجموعی طور پر پانچ ہزار رنز بھی نہیں بنائے البتہ سنچریاں دس ہیں۔وہ بھی 2009میں ہی کرکٹ میں واپس آئے تھے،میں دعوے سے کہتا ہوں کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد صلاحیت میں کوہلی سے کم نہیں ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے دونوں کھلاڑیوں نے اپنے دماغ کا درست استعمال نہیں کیا۔ توجہ صرف کرکٹ پر رکھتے تو کوہلی کی طرح آج یہ بھی بڑے سپراسٹارز ہوتے۔ جہاں تک زیادہ مواقع نہ ملنے کے بات ہے تو اگر آپ تسلسل سے پرفارم کرتے تو کس کی ہمت ہوتی کہ ٹیم سے باہر کر دیتا، عمر اور احمد دونوں سوشل میڈیا کے ہیرو ہیں، سیلفیز وغیرہ پر زیادہ دھیان رہتا ہے۔ ایسا ضرور کریں مگر جب کوئی موقع آئے۔

اگر عوامی سپورٹ پر ٹیمیں بننا شروع ہو جائیں تو آج عبدالرزاق بھی ٹیم میں شامل ہوتے مگر زمینی حقائق دیکھنا پڑتے ہیں۔ ٹویٹر اور فیس بک پر مقبولیت ہی سابق صدر پرویز مشرف کو واپس پاکستان لائی مگر ایئرپورٹ پر چند سو لوگوں کو ہی دیکھ کر انھیں اپنی ’’عوامی حمایت‘‘ کا اندازہ ہو گیا تھا۔سوشل میڈیا اور حقیقی دنیا میں بہت فرق ہے،اسے محسوس کریں۔ میرے ساتھ ظلم ہو گیا زیادتی ہو گئی۔ ایسی باتیں کس بنیاد پر کر رہے ہیں ذرا اپنے گریبان میں تو جھانکیں، کیا آپ دونوں کی حالیہ کارکردگی ایسی ہے کہ ٹیم میں واپس لیا جائے؟ پورا ایک ڈومیسٹک سیزن کھیلیں اور رنز کے ڈھیر لگائیں پھر کسی سے سفارش کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وہ کسی فلم کا مشہور ڈائیلاگ ہے ناںکہ ’’ بلا بولے گا تو سب ہی سنیں گے‘‘، آپ بھی اتنے رنز بنائیں کہ پھر سلیکٹرز کو منتخب کرنا ہی پڑے تب تک خاموشی سے انتظار کرنا ہی مناسب ہوگا

یہ بھی پڑھیں

لگاتار چیمپیئنز لیگ, کا دوسرا فائنل کھیلنے, کی امیدوں پر پانی, پھیرنے کی, پوری کوشش

لگاتار چیمپیئنز لیگ کا دوسرا فائنل کھیلنے کی امیدوں پر پانی پھیرنے کی پوری کوشش

چیمپیئنز لیگ کا سیمی فائنل دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ دونوں میچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے